چہروں کو بدلنے والی یہ لڑکی کون ہے؟

آن لائن ویڈیو سٹریمنگ سروس نیٹ فلکس نے ‘دا کویئنز گیمبٹ’ کے نام سے ایک نئی ڈراما سیریز کا آغاز کیا ہے۔ اس ڈرامے کے حوالے سے  تصاویر میں دکھائی دینے والے چہرے جانے پہچانے ہیں جنہیں فوری طور پر شناخت کیا جا سکتا ہے۔

امریکی ماڈل اور ادکارہ میرلن منرو کے فیشن کے مشہور انداز، برطانوی اداکارہ اوڈری ہیپبرن کا جدید انداز، شطرنج کی بساط کے حوالے سے شہرت رکھنے والی بتھ ہارمن جو ڈرامے میں آنیا ٹیلر جوئے کا کردار ادا کر رہی ہیں لیکن غور سے دیکھنے پر آپ کو ایک فرق محسوس ہوگا کہ یہ ان مشہور شخصیات کی آرکائیو سے نکالی گئی تصاویر نہیں بلکہ سعودی عرب کی جدید میک جپ آرٹسٹ سلویٰ کوشک کے دست ہنر کا کمال ہے۔

سلویٰ کوشک میک اپ آرٹ کی تخلیقی تکنیک سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہیں اپنے کام میں چند اضافی لوازمات کی ضرورت پڑتی ہے جن میں وگ، موتی اور سٹکرز شامل ہیں۔ ان کی خود کو حقیقی یا افسانوی کرداروں کا روپ دینے کی کوئی حد نہیں ہے۔

میک اپ کی تعریف میں ‘ایواں گارڈ’ کی اصطلاح کاسمیٹک آرٹ کے انتہائی درجے کے اظہار کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس میں خیالی دنیا کا رنگ ہوتا ہے۔ کوشک کے لیے اس کا مطلب ماضی سے تعلق رکھنے والی تمام اشیا سے محبت کا اظہار ہے جن میں ثقافت اور مخصوص انداز شامل ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے جدید تصورات سے بھی کام لیا ہے۔

کوشک نے منرو اور ہیپبرن جیسے اداکاروں کے سٹائل کو نئی زندگی دی ہے بلکہ برطانوی پاپ سٹار ڈیوڈ بووی امریکی گلوکارہ شیر یہاں تک کے ڈزنی کے کرداروں جیسے کہ ’بیوٹی اینڈ دا بیسٹ‘ کے کردار بیل کو انداز کو بھی زندہ کیا ہے۔

33 سالہ آرٹسٹ ویڈیو گیمز جیسے کہ پیک مین اور سٹار وارز جیسی فلموں کی بنیاد پر میک اپ کے منفرد تھیم تخلیق کرتی ہیں۔

سعودی آرٹسٹ اس وقت جدہ میں مقیم ہیں لیکن عمر کا ایک بڑا حصہ امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں گزرا جہاں انہوں نے بنیادی سے لے کر ہائی سکول تک تعلیم حاصل کی۔

وہ وہیں پلی بڑھیں اور اس دوران وہ ڈزنی ورلڈ، یونیورسل سٹوڈیوز اور سی ورلڈ جیسے تھیم پارکس کی طرف فراہم کی گئی تفریح سے متاثر ہوئیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عرب نیوز کے ساتھ بات چیت میں کوشک کا کہنا تھا کہ ’وہاں جانے کے لیے تخلیقی اور تخیل کے اعتبار سے بہت سے مختلف مقامات تھے۔ میری دلچسپی ہمیشہ میک اپ، سٹائلنگ اور ملبوسات میں رہی ہے اور میں فیشن کو نمائندگی کے طور پر دیکھتی ہوں۔‘

’اگرچہ ہمارے پاس بہت سے ذرائع ابلاغ ہیں جیسے ریڈیو اور ٹیلی ویژن لیکن میرا خیال ہے سب سے بڑا ذریعہ کوئی شخصیت ہوتی ہے۔ وہ شخصیت، اس کی پہچان اور جسم کیا ہے اور واقعات اور تصورات شیئر کرنے میں ان کے جسم کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کوئی شخصیت محض ایک آرٹ ورک جیسے کہ ٹیلی ویژن شو وغیرہ سے کہیں بڑھ کر کچھ کر سکتی ہے۔‘

تعلقات عامہ کے 10 سالہ کیریئر میں کوشک بہت سے فوٹوگرافرز، فیشن ماڈلز کے ساتھ ساتھ ایسے کاموں سے وابستہ رہ چکی ہیں جن کا تعلق میک اپ آرٹسٹس کے ساتھ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ کم عمری میں امریکہ میں رہتی تھیں تو خود انہیں بطور ماڈل کام کی پیشکش کی گئی جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔

کوشک کے بقول: ’میرا شوق صرف ماڈلنگ تک محدود نہیں تھا۔ میں آئیڈیاز متعارف کروانا چاہتی ہوں اور میں جو امیج تخلیق کرنا چاہتی ہوں اس پر زیادہ کنٹرول چاہتی ہوں۔ میں نقش ونگار بنانا اور اپنے چہرے پر موتی، سٹکرز اور گڑیا جیسی چیزیں رکھنا چاہتی ہوں۔ میں جو تھیم شیئر کرنے کی کوشش کر رہی ہوں اس کے لیے اسے تخلیق کرنے کے لیے جو بن پڑتا ہے کرتی ہوں۔‘

’آپ اپنے آپ کو کسی بھی شکل میں پیش کرنا چاہتے ہوں اس کے لیے میک اپ کی مصنوعات صرف ایک آلہ ہیں اس لیے ان کو سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اس امر کو یقینی بنانا چاہتی ہوں کہ اسے مثبت انداز میں لیا جائے اور لوگ اسے صرف فن کے نمونے کے طو ر دیکھیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’میک اپ صاف کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی آپ کو ضرورت ہوتی ہے کوئی ایسی شے نہیں کہ جس جیسا آپ کو دکھائی دینا ہے۔ آپ خود تھوڑا تصور سے کام لے کر اور چند آلات استعمال کرکے جیسا چاہیں دکھائی دے سکتے ہیں۔‘

Related Articles

Back to top button