وہ دکان جہاں نورجہاں کے ہارمونیم کی مرمت ہوئی

کراچی میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کے قریب موسیقی کے آلات اور مرمت کی ایک دکان موجود ہے جس نے پچھلی چھ دہائیوں میں ملک کے مشہور ترین موسیقاروں کی خدمت کی ہے۔

ایم اے جناح روڈ پر موجود اس دکان کا نام ’سلیم اینڈ سنز‘ ہے، جس کی بنیاد 1958 میں رکھی گئی تھی۔

یہاں مہدی حسن، میڈم نور جہاں، بندو خان، قومی ترانے کے خالق احمد علی چھاگلہ اور دوسرے بڑے فنکاروں کے ساز مرمت ہونے کے لیے آتے رہے ہیں۔

سلیم اینڈ سنز ماضی کا قصہ

سلیم صاحب تو نہیں رہے۔ ان کے بیٹے فہد عباس ماضی کا قصہ کچھ یوں سناتے ہیں: ’میرے والد صاحب نے اس دکان کی بنیاد 1958 میں رکھی۔ اس وقت ریڈیو پاکستان موسیقاروں کی کا مرکز تھا۔ پہلے پہل ہماری دکان اردو بازار کی مشہور ٹائر والی گلی میں تھی۔

’لیکن ہم سے بھی پہلے سعید صاحب نے دکان کھولی۔ میرے والد نے وہیں کام سیکھا۔ کچھ اور بھی دکانیں تھیں جو وقت کے ساتھ کہیں اور منتقل ہوئیں یا پھر بند ہو گئیں کیونکہ موسیقی کا وہ چلن ہی نہیں رہا۔

’ہمارا بنیادی کام ریڈیو پاکستان پر تھا، جہاں موسیقی کی نئی نئی دھنیں بنتی رہیں اور موسیقار کام کرتے رہے۔

’موسیقی کے آلات اگر خراب ہو جاتے تو کاریگر تو چاہیے تھے اور نئے آلات کی بھی ضرورت رہتی۔ یعنی ہماری دکان بھی خوب چلی۔ 60 اور 70کی دہائی میں موسیقی باقاعدہ صنعت کی شکل اختیار کر چکی تھی۔

’ریڈیو کے فنکار والد صاحب کو جانتے تھے۔ موسیقار کام میں وقفے کے دوران باہر آتے۔ ہماری دکان پر بیٹھتے تھے۔ سامنے کی طرف ایک ایرانی ہوٹل تھا۔

’فنکار چائے پیتے تھے اور گپ شپ کرتے یعنی تھوڑا تازہ دم ہو جاتے۔ سب سے بڑی بات احمد غلام علی چھاگلہ صاحب نے جس ہارمونیم پر پاکستان کے قومی ترانے کی دھن تشکیل دی، وہ بھی ہماری ہی دکان سے درستگی کے عمل سے گزرا۔

’اب وہ ریڈیو پاکستان، حیدرآباد کے میوزیم کا حصہ ہے، جس پر ہماری دکان کی مہر بھی لگی ہوئی ہے۔ یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے۔‘

فہد عباس نے اپنی دکان کے بارے میں مزید بتایا: ’ہماری دکان پر سب بڑے فنکار جیسے خان مہدی علی خان، ان کے بھائی پنڈت غلام قادر، امراؤ بندو خان صاحب سارنگی نواز خود بھی آئے اور ان کے ہارمونیم اور ستار وغیرہ بھی۔

’میڈم کا ہارمونیم بھی ہماری دکان پر آیا۔ حمیرا قریشی کا بھی درست کیا ہے۔ اسی طرح خود ریڈیو پاکستان اور بعد میں پی ٹی وی کے آلات موسیقی مرمت کے لیے ہمارے پاس آتے رہے۔

’آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر آرٹسٹ کا کوئی نہ کوئی آلہ درستگی کے لیے ہمارے پاس آیا یا پھر انہوں نے ہم سے نیا لیا۔

’اچھا وقت تھا۔ فنکاروں کے طائفے نکلتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ خاص کر جمعرات کے دن آرٹسٹ یہاں بیٹھ جاتے، انہیں شام میں کسی فکشن میں جانا ہوتا ہے یا کسی کو اپنے فکشن پر بلانے کے لیے فنکار چاہیے ہوتے تو بھی لوگ ہماری دکان سے رجوع کرتے۔ یعنی خوب گہما گہمی رہتی۔

’میں نے بچپن میں جن فنکاروں اور گلوکاروں کو دیکھا، ان میں سلیم دانش، عالمگیر، تحسین جاوید خاص کر یاد ہیں۔‘

119 سال پرانے ہارمونیم کی کہانی

فہد نے دکان کی سب سے نایاب چیز 119 سال پرانا فرانس کا ہارمونیم دکھایا۔ یہ انہوں نے ایک کباڑی سے خریدا تھا اور اس پر 1912 کا سال اور میڈ ان فرانس درج ہے۔

فہد نے بتایا، ’یہ تو ہم جانتے ہیں کہ ہارمونیم فرانس ہی کی ایجاد ہے۔ یہ ہمارے ہاں استعمال ہونے والے ہارمونیم سے بالکل مختلف ہے۔

’اس کے اوپر ایک پینل ہے۔ پھر ہوا گزرنے کے لیے ایک خانہ اور ان سے گزرتی ہوئی ہوا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہی اوپر والا حصہ آگے چل کر موجودہ کی بورڈ بنا۔

’اس میں بیلو سلائی مشین کی طرح پیروں میں ہے، جس کو چلانے سے ہوا ان بیلو یا پائپس سے گزرتی تھی۔ اب یہ جدت اختیار کر کے ہاتھوں میں آ گئی ہے۔ باقی سسٹم وہی ہے۔‘

ضیاء الحق کا دورمقامی موسیقی کا ’سنہری دور‘

فہد سمجھتے ہیں کہ ضیاء الحق کے زمانے میں موسیقی کو زیادہ فروغ ملا۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’آپ دیکھ لیں کہ 1978کے بعد پی ٹی وی پر کون کون سے گلوکار، موسیقار، قوال اور گانے مشہور ہوئے۔

’انہی فنکاروں کا کام آج تک ری میک ہو رہا ہے۔ میڈم نور جہاں کے گانے اٹھائیں، ناہید اختر کو سنیں، مہناز کے گانے لیں، بینجمن سسٹر، عالمگیر، شہکی، تحسین جاوید، علی حیدر، سجاد علی اور افشاں۔

’ان سب کو ریڈیو اور پھر پی ٹی وی نے آگے بڑھایا۔ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے زمانے میں مقامی موسیقی کو فروغ حاصل ہوا۔ شاید اس کی وجہ مغربی موسیقی سے اجتناب تھا۔‘

’سلیم اینڈ سنز‘ کے کاروبار کی کیا حالت ہے اور آج لوگ ان کے پاس کس قسم کے سازوں کی مرمت کے لیے آتے ہیں؟

اس کے جواب میں فہد نے کہا ’ہماری پہچان ہارمونیم ضرور ہے، لیکن ہمارے پاس گٹار بھی آتے ہیں اور دیگر مغربی آلات بھی۔ کیونکہ وقت اور حالات کا تقاضہ ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’جہاں تک روایتی آلات موسیقی کا تعلق ہے تو وہ اپنا وجود کھوتے جا رہے ہیں، جیسے سارنگی کو بجانے والے اب بہت کم فنکار رہ گئے ہیں۔

’کراچی میں ایک ہمارے والد کے دوست ہیں۔ بزرگ آدمی ہیں، جو ڈبل بیس چیلو بجاتے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق کراچی میں چیلو کا ساز بجانے والا کوئی اور سازندہ نہیں رہا۔

’پنجاب کی طرف کوئی ہو تو ہو۔ سارنگی کے سازندے چار، چھ ہوں گے، یعنی انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔‘

منظر بدل گیا ہے۔ چیزیں پہلی جیسی نہیں رہیں اور یقیناً انٹرنیٹ پر دستیاب میوزک کے آسان اور مفت استعمال نے مقامی فنکار کو بہت متاثر کیا ہے۔


تصاویر: شیما صدیقی

یہ بھی پڑھیے

Back to top button