‘ایک عہد کا اختتام’: لیجنڈری اداکار دلیپ کمار چل بسے

بالی وڈ کے لیجنڈری اداکار دلیپ کمار طویل علالت کے بعد 98 برس کی عمر میں چل بسے۔

اداکار کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ان کے اہل خانہ کی جانب سے کی گئی ٹویٹ میں دلیپ کمار کے انتقال کی اطلاع دی گئی۔

بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق ممبئی کے پی ڈی ہندوجا ہسپتال میں اداکار کا علاج کرنے والے پلمونولوجسٹ ڈاکٹر جلیل پارکر نے بھی دلیپ کمار کے انتقال کی تصدیق کی۔

دلیپ کمار 11 ستمبر 1922 کو پشاور کے محلہ خداداد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام محمد یوسف خان تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ 1935 میں تقسیم ہندوستان سے قبل ممبئی (اس وقت کے بمبئی) منتقل ہوگئے تھے۔ اداکاری کے میدان میں آنے سے قبل دلیپ کمار پھلوں کا کاروبار کیا کرتے تھے۔

انہوں نے 1966 میں اداکارہ سائرہ بانو سے شادی کی۔

دلیپ کمار کی پہلی فلم ‘جوار بھاٹا’ تھی۔ انہوں نے بالی وڈ کو بے شمار کامیاب فلمیں دیں، جن میں انداز، دیوداس، سوداگر، امر، اڑن کھٹولہ،سنگ دل اور مغل اعظم شامل ہیں۔ انہیں بہترین اداکاری پر ‘شہنشاہ جذبات’ کا لقب بھی دیا گیا۔ دلیپ کمار کی آخری فلم ‘قلعہ’ تھی، جو 1998 میں ریلیز ہوئی تھی۔

دلیپ کمار نے اپنی شاندار اداکاری اور فن کے لیے خدمات پر بہت سے ایوارڈ اور اعزاز بھی اپنے نام کیے، جن میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور پدم وبھوشن ایوارڈ شامل ہیں۔

دلیپ کمار کے انتقال پر فنکاروں اور سیاستدانوں سمیت دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی طرف سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے، جن میں اداکار کو خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔

بالی وڈ کے بگ بی امیتابھ بچن نے دلیپ کمار کے انتقال پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ‘ایک ادارہ چلا گیا۔۔۔ جب بھی بھارتی سینیما کی تاریخ لکھی جائے گی، وہ ہمیشہ ‘دلیپ کمار سے پہلے اور دلیپ کمار کے بعد’ ہوگی۔’

اداکار اکشے کمار نے لکھا: ‘دنیا کی نظر میں بہت سے ہیروز ہوں گے لیکن ہم اداکاروں کی نظر میں وہی ہیرو تھے۔ دلیپ کمار بھارتی سینیما کا ایک پورا عہد اپنے ساتھ لے گئے۔’

بھارتی سیاست دان راہول گاندھی نے دلیپ کمار کے انتقال پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سینیما کی تاریخ میں ان کی غیر معمولی خدمات آنے والی نسلوں تک یاد رکھی جائیں گی۔

 

یہ بھی پڑھیے

Back to top button