جب کشور کمار کی فلم پر ہالی وڈ کمپنی نے پابندی لگوا دی

ایک ایسی فلم، جو صرف 10 دن سینیما گھروں میں سجی اور پھر اِسے اتار لیا گیا، لیکن فلم فلاپ ہوئی تھی نہ سینیما گھر میں کسی اور فلم کی نمائش ہونے والی تھی بلکہ اس فلم کو عدالتی حکم کی بنا پر سینیماؤں سے ہٹایا گیا۔

قصہ صرف یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ اس بدنصیب فلم کے تمام تر پرنٹس کو ضائع کرنے کا بھی فرمان جاری ہوا۔

یہ ذکر ہے 64 سال پرانا جب آٹھ مارچ 1957کو کشور کمار کی فلم ’بے گناہ‘ کو تیار کرکے بڑے شان و شوکت کے ساتھ سینیما گھروں میں لگایا گیا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب کشور کمار رومانی ہیرو کے ساتھ ساتھ فلم ساز کا خرچہ بچاتے ہوئے مزاحیہ کردار بھی خود ہی ادا کرتے تھے اور گلوکاری میں تو ان کا اپنا الگ مقام تھا، فلم ساز اور ہدایت کار اس فکر میں ہلکان نہ ہوتے کہ اِن کے ہیرو پر کس گلوکار کی آواز جچے گی۔ یعنی یہ سمجھیں کہ کشور کمار کو سائن کر کے ایک تیر سے تین تین شکار کر لیے جاتے۔

اسی خیال کے پیش نظر ہدایت کار نریندر سوری کی اس تخلیق میں ’تھری ان ون‘ کشور کمار کو مرکزی کردار میں پیش کیا گیا، ہیروئن کے طور پر شکیلہ ان کی نیندیں چراتی ادائیں دکھاتی رہیں۔ ہیلن اور مدن پوری کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے معاون کرداروں میں جلوہ افروز ہوئے۔ فلم میں مزاح، تجسس اور میوزک کا تڑکا لگایا گیا تھا۔ شیلندر اور حسرت جے پوری کے رس گھولتے بولوں کو شنکر جے کشن نے موسیقی کا رنگ دے کر اور خوبصورت اور حسین بنادیا تھا۔

ہدایت کار نریندر سوری کو ’بے گناہ‘ بنانے کا خیال کیوں اور کیسے آیا، اس کے پس پردہ دلچسپ کہانی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ موصوف نے1954میں آئی ہالی وڈ کی کامیڈی فلم ’ناک آن وڈ‘ (Knock on Wood) دیکھی، تو اس کی کہانی نے انہیں کچھ زیاد ہ ہی متاثر کیا۔

کامیڈین ڈینی کے اور مائی زیٹرلنگ کی اس فلم میں جہاں مزاح تھا، وہیں رومانس بھی اور تجسس بھی، اسی لیے انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ اس ہالی وڈکی تخلیق پر ہاتھ صاف کیا جائے۔ کامیڈین اور رائٹر آئی ایس جوہر کو فلم کا ٹیپ تھما کر حکم دیا کہ ’بس چھاپ لو اسے اور دے دو دیسی انداز۔‘

یہ کوئی نئی بات نہیں تھی، اُس زمانے میں بھی اگر بھارتی ہدایت کاروں کو ہالی وڈ کی فلم پسند آ جاتی تھی تو وہ اسے من و عن کاپی کرنے میں کتراتے نہیں تھے۔ کچھ ایسا ہی نریندر سوری نے بھی کیا۔ جنہوں نے سرمایہ کے لیے کانگریسی رہنما انوپ چند شاہ کا در کھٹکھٹایا اور یوں ایک اور فلم ساز کو ملا کر اس تخلیق پر کام شروع ہوا۔

فلم کی مختصر کہانی کچھ یوں تھی کہ ایک سٹیج فنکار اپنے ہم شکل پتلے (ڈمی) کے ساتھ پرفارم کرتا رہتا ہے، اسی دوران اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ اس ڈمی کواستعمال کرتے ہوئے اسے ضرورت سے زیادہ گفتگو کرا رہا ہے اور ایسے میں وہ نفسیاتی بیماری کا شکار بن گیا ہے۔ اسی لیے خاتون ڈاکٹر اس مشکل سے نجات دلانے کی جستجو کرتی ہے لیکن پھر وہ اسی کی محبت کا اسیر بن کر رہ جاتا ہے، کہانی اس کے بعد لیتی ہے نیا ڈرامائی موڑ، جو فلم کو اور دلچسپ بنا دیتا ہے۔

ہدایت کار نریندر سوری نے انتہائی کم عرصے میں ’بے گناہ‘ کو مکمل کرکے جب سینیما گھروں میں سجایا تو جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے تھے کہ وہ تنازعے میں گھر گئے۔ ہالی وڈ فلم ’ناک آن وڈ‘ کے پروڈکشن ہاؤس پیراماؤنٹ پکچر امریکہ کو پتہ چل گیا کہ ’بے گناہ‘ تو دراصل ان کی فلم کا چربہ ہے۔ بس جناب پھر کیا تھا، پروڈکشن ہاؤس نے کاپی رائٹس کا معاملہ اٹھا کر بھارت میں ہی مقدمہ کرنے کا اراد ہ کر لیا۔

بمبئی ہائی کورٹ میں چلنے والے اس مقدمے میں نریندر سوری اور فلم ساز ثابت نہ کر سکے کہ وہ کاپی رائٹس کے معاملے میں بے گناہ ہیں۔ جیت ’پیرا ماؤنٹ پکچر امریکہ‘ کی ہوئی۔ عدالت نے حکم دیا کہ فوری طور پر فلم، سینیما گھروں سے ہٹائی جائے اور ساتھ ساتھ اس کے تمام تر پرنٹس ضائع کیے جائیں۔ ہدایت کار نریندر سوری کے ارمانوں پر تو اوس ہی پڑ گئی اور یوں 10دن تک نمائش پذیر ہونے والی کشور کمار کی ہنستی مسکراتی فلم ’بے گناہ‘ کی کہانی المیہ انداز میں اپنے اختتام کو پہنچی۔

کوئی چھ دہائی بعد ’دی نیشنل فلم آرکائیو آف انڈیا‘ نے گذشتہ برس دعویٰ کیا کہ انہیں ’بے گناہ‘ کے کچھ پرنٹس مختلف مقامات سے ملے ہیں۔ عدالتی حکم پر پرنٹس کو تلف تو کر دیے گئے تھے لیکن کسی نہ کسی نے ان میں سے کچھ پرنٹ بچا کر کہیں محفوظ کر لیے۔ جبھی 16 ایم ایم کی ریل کے 60سے 70 منٹس دورانیے کے پرنٹس دریافت کیے گئے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کہا جا رہا ہے کہ یہ خاصی خستہ حالت میں ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک پرنٹ میں موسیقار جوڑی شنکر جے کشن کے جے کشن بھی نظر آئے۔ جو پیانو پر بیٹھے دھن چھیڑ رہے ہیں، جبکہ ان کے سامنے رقص کرتی شیلا وز ہیں۔ جے کشن گلوکار مکیش کی آواز میں فلم کے مقبول گیت ’اے پیاسے دل بے زباں‘ پر لبوں کو ہلا رہے ہیں۔ یعنی جے کشن نے اس فلم میں بطور مہمان اداکار کے انٹری دی۔

دی نیشنل فلم آرکائیو آف انڈیا کے مطابق وہ بمبئی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی کاپی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس میں ’بے گناہ‘ پر پابندی اور اس کے پرنٹس تلف کرنے کا حکم دیا گیا تھا، مقدمہ برسوں پرانا ہونے کی وجہ سے عدالت کو ریکارڈ کھنگالنے کے لیے مزید تفصیلات  درکار ہیں، جو نیشنل فلم آرکائیو آف انڈیا دینے سے قاصر ہے۔

گذشتہ برس ہی اس سلسلے میں پیراماؤنٹ پکچر امریکہ سے بھی رابطہ کیا گیا کہ اگر ان کے پاس فیصلے کی کاپی ہو تو روانہ کی جائے لیکن کامیابی نہ ملی۔ ارادہ تو یہ ہے کہ ایک بار پھر اس حوالے سے عدالتی جنگ لڑی جائے تاکہ ’بے گناہ‘ کے جو بھی پرنٹس محفوظ رہ گئے ہیں، انہیں یکجا کر کے ان کی نمائش کا مرحلہ آسان ہو۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button