پاکستان: کرونا کی نئی قسم ’ڈیلٹا‘ کی آمد اور چوتھی لہر کا خطرہ

بین الاقوامی سطح پر ایک طرف تو پاکستان میں کرونا (کورونا) وائرس کے خلاف حکومتی اقدامات کے باعث مثبت نتائج پر تعریف کی جا رہی ہے تو دوسری جانب کرونا وائرس کی نئی قسم ’ڈیلٹا‘ کی پاکستان میں تصدیق ہو گئی ہے۔

معروف امریکی جریدے دی اکانومسٹ نے چند روز قبل شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پاکستان کو کووڈ 19 سے کامیابی سے نمٹنے والے ملکوں کی فہرست میں ہانگ کانگ اور نیوزی لینڈ کے بعد تیسرے نمبر پر رکھا ہے۔

تاہم وبا کے خلاف تمام حکومتی کامیابیوں کے باوجود کرونا وائرس کی نئی قسم ’ڈیلٹا‘ پاکستان پہنچ گئی ہے، جس کی تصدیق بدھ کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) نے کی۔

لاہور کے شوکت خانم کینسر ہسپتال سے منسلک متعدی بیماریوں کی ماہر  ڈاکٹر سمیعہ نظام الدین کا کہنا تھا کہ ڈیلٹا ویریئنٹ کرونا وائرس کی زیادہ خطرناک اور مہلک قسم ہے، جو بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سمیعہ نظام الدین کا کہنا تھا کہ ’ڈیلٹا ویرئینٹ زیادہ موثر ہے اور دوسری اقسام کی نسبت زیادہ لمبے عرصے تک جسم میں موجود رہتا ہے۔‘

پاکستان میں کرونا وائرس کا ڈیلٹا ویریئنٹ مئی میں اس وقت داخل ہوا، جب پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ائر پورٹ پر  متحدہ عرب امارات سے آنے والے مسافروں کے ٹیسٹ مثبت آئے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت میں دونوں مسافروں سے حاصل ہونے والے نمونوں میں ڈیلٹا ویریئنٹ کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ 

تاہم  جب اسلام آباد میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) میں ان نمونوں کی جانچ کی گئی تو اس میں ڈیلٹا ویریئنٹ کی تصدیق ہوئی۔

این آئی ایچ کے ایک سینیئر اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو  بتایا کہ ’ڈیلٹا ویریئنٹ کی تصدیق تو ہو گئی ہے، اب ہم اس کے کوانٹم کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

کرونا وائرس کی چوتھی لہر

ماہرین کے خیال میں کرونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر نظر انداز ہونے کی صورت میں پاکستان کو مہلک وبا کی چوتھی لہر کا سامنا ہو سکتا ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے اسلام آباد میں سربراہ ڈاکٹر میاں عبدالرشید نے انڈپینڈنٹ اردو کو  بتایا کہ مستقبل قریب میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر کو بعید از قیاس قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ’چوتھی لہر کے وقوع پذیر ہونے کا انحصار بہرحال اس پر ہو گا کہ وائرس کتنی تیزی سے پھیلتا ہے، جتنا تیز  پھیلاؤ اتنی تیزی سے نئی لہر کا آنا ٹھہرے گا۔‘

دوسری جانب وفاقی وزیر اسد عمر جو  این سی او سی کے سربراہ بھی ہیں نے بھی چند روز قبل کرونا وائرس کی چوتھی لہر کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے ایس او پیز پر عمل در آمد اور ویکسین لگوانے کی ضرورت پر زور  دیا تھا۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلمان نے بھی دو روز قبل ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ملک میں کروناکیسز میں کم مگر  قطعی (definitive) اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ڈاکٹر قیصر سجاد کے خیال میں پاکستان میں جولائی کے آخر اور اگست کے شروع میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر کے شروع ہونے کے امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جس رفتار سے کرونا کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے وہ چوتھی لہر کی طرف ہی اشارہ کر رہا ہے۔

چوتھی لہر کی وجہ ڈیلٹا ویریئنٹ؟

کرونا وائرس کی کسی بھی لہر کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ مہلک وائرس کسی آبادی میں کتنی تیزی سے پھیلتا ہے۔

ماہرین کے خیال میں چونکہ ڈیلٹا ویریئنٹ پاکستان پہنچ گیا ہے تو یہ بہت پھیلے گا اور چوتھی لہر کی وجہ بن سکتا ہے۔

ڈاکٹر میاں عبدالرشید کا کہنا تھا کہ ڈیلٹا ویریئنٹ کرونا وائرس کی زیادہ تیزی سے پھیلنے والی قسم ہے، تو اس لیے یہ پاکستان میں چوتھی لہر کی وجہ بن سکتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر سمیعہ نظام الدین نے اس سلسلے میں کہا کہ ڈیلٹا ویریئنٹ خطرناک حد تک تیزی سے پھیلتا ہے اور پاکستان میں بھی ایسا ہی ہونے کے امکانات پوری طرح موجود ہیں۔

متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر فیصل محمود کہتے ہیں کہ پاکستان میں ڈیلٹا ویریئنٹ کے ٹیسٹ بہت زیادہ نہیں کیے جا رہے اس لیے اس کی موجودگی کی حقیقی صورت حال سے ہم لا علم ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’امکان ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں بالخصوص کراچی میں ڈیلٹا ویریئنٹ کے متاثرہ لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہو، جس کا ہمیں ابھی علم نہیں ہے۔‘

چوتھی لہر کیوں آ سکتی ہے؟

ڈاکٹر میاں عبدالرشید کا کہنا تھا کہ جولائی کے دوران منایا جانے والا عید الاضحی کا تہوار پاکستان میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر کے آنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی تہواروں پر لوگوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ بڑے شہروں سے قصبوں اور  دیہاتوں کی طرف جاتے ہیں، جبکہ قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کی خاطر بھی بڑی تعداد میں لوگ مختلف شہروں کے درمیان سفر کرتے ہیں۔

’احتیاطی تدابیر کی غیر موجودگی میں انسانوں کی یہ نقل و حمل کرونا وائرس زیادہ تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ بن سکتی ہے اور اسی سے کرونا وائرس کی چوتھی لہر کے امکانات موجود ہیں۔‘

پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں انتخابات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل بھی مہلک وائرس کے پھیلاؤ اور نتیجتاً چوتھی لہر کے امکانات کی وجوہات کو بڑھا سکتا ہے۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابات کے لیے جلسے جلوس منعقد ہوتے ہیں جن میں لوگ بڑی تعداد میں ایک جگہ موجود ہوتے ہیں جبکہ پولنگ سٹیشنز کے باہر بھی رش کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔

ڈیلٹا ویریئنٹ کیا ہے؟

دسمبر 2020 میں سب سے پہلے بھارت میں دریافت ہونے والا کرونا وائرس کا ڈیلٹا ویریئنٹ دنیا کے کئی ممالک میں ہزاروں ہلاکتوں کا باعث بن چکا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے حال ہی میں بتایا تھا کہ ’ڈیلٹا ویریئنٹ اب تک کرونا وائرس کی شناخت ہونے والی اقسام میں ’سب سے زیادہ منتقل‘ ہونے والی قسم ہے، جو  ویکسین نہ لگانے والی آبادی میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔‘

ڈیلٹا ویریئنٹ کے نتیجے میں ہونے والی کووڈ 19 بیماری میں مریض میں عموماً وہی علامات دیکھنے کو ملتی ہیں جو کرونا وائرس کی دوسری اقسام سے ہونے والی بیماری میں پائی جاتی ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق ڈیلٹا ویریئنٹ سے متاثر ہونے والے مریضوں میں کھانسی کی نسبت نزلہ زیادہ شدید ہوتا ہے۔

پاکستان میں کرونا کی لہریں

پاکستان میں کرونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق مارچ 2020 میں ہوئی اور وبا کی پہلی لہر اسی سال اپریل سے اگست تک دیکھنے میں آئی، جس دوران نو جون ایسا دن تھا جب 6533 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

اکتوبر 2020 کے اوآخر میں شروع ہونے والی کرونا وائرس کی دوسری لہر فروری 2021 تک چلی اور اس دوران سب سے زیادہ مثبت کیسز (3261) آٹھ دسمبر کو دیکھنے میں آئے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر نے رواں سال مارچ میں سر اٹھایا اور اس دوران 23 اپریل کو سب سے زیادہ (5694) کیسز سامنے آئے۔

تاہم اب ایک مرتبہ پھر سے جولائی کا مہینہ شروع ہوتے ہی کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اب تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 1500 یومیہ سے زیادہ تک پہنچ چکی ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کی مجموعی طور پر نو لاکھ 67 ہزار سے زیادہ افراد میں تصدیق ہو چکی ہے جبکہ اموات کی تعداد تقریباً ساڑھے 22 ہزار ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button