بلوچستان:ضلع کیچ میں کرونا کے بعد ڈینگی کا خطرہ  

پاکستان میں جہاں اس وقت کرونا کی وجہ سے حکومت نے لاک ڈاؤن کردیا ہے وہاں بلوچستان کے ضلع کیچ میں ڈینگی نے سراٹھانا شروع کردیا ہے۔ 

 تربت کے نواحی علاقے گوگدان کے رہائشی کہدہ نصیرکو  چند دن پہلے بخارہوا۔ جس کو انہوں نے معمول کی علامت سمجھا لیکن جب اس میں شدت آنے لگی اور وہ چلنے پھرنے سے بھی رہ گئے تو انہوں نے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا۔  

 نصیر کو ان کے گھر والے تربت میں واقع تربت میڈیکل سینٹر لے گئے جہاں ڈاکٹر نے معائنے کے بعد ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کی۔ جب نتیجہ آیا تو ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ ان کو ڈینگی ہوا ہے۔ 

 نصیر کے خاندان میں ان کے ساتھ پانچ افراد میں ڈینگی کی تشخیص ہوا ہے۔ جن میں کچھ کو علاقہ تربت میں جب کہ بعض کو کراچی منتقل کیا گیا ہے۔ 

 یہ صورتحال سوشل میڈیاپر بھی زیر بحث ہے کہ ضلع کیچ میں ڈینگی کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اور محکمہ صحت کے حکام اس پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ 

 ٹیچنگ ہسپتال تربت کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ محمد یوسف کے مطابق ضلع میں ڈینگی کی صورتحال تشویشناک ہے۔ سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ 

 ڈاکٹر محمد یوسف نے بتایا کہ ہم پہلے ہی کرونا پرقابو پانے کی کوشش کررہے ہیں جس کے لیے  ٹیچنگ ہسپتال میں ٹیسٹ اور ویکسین کی سہولت مہیا کردی گئی ہے۔ لیکن اس وقت ہمیں ڈینگی کے پھیلاؤکا بھی سامنا ہے۔ 

 انہوں نے ‘انڈپینڈنٹ اردو’ کو بتایا کہ ٹیچنگ ہسپتال تربت میں اس وقت روزانہ کی بنیاد پر سات سے دس مریض ڈینگی کے آرہے ہیں۔

ڈاکٹریوسف نے بتایا کہ ڈینگی کے مریض گوگدان کے علاقے سے لیکر پورے علاقے اور ضلع کے دیگر علاقوں سے بھی آرہے ہیں۔ تاہم اس وقت کوئی بھی مریض ہسپتال میں زیر علاج نہیں ہے۔ 

 انہوں نے بتایا کہ ڈینگی کے روک تھام کے لیے اقدامات جاری ہیں اور میونسپل کمیٹی کی طرف سے مچھروں کے خاتمےکے لیے اسپرے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ 

ڈاکٹر یوسف کے بقول: ڈینگی کا پھیلاؤ روکنے کے لیے شہریوں کی اپنی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ اب جن علاقوں سے ڈینگی کے مریض آرہے ہیں۔ یہ لوگ چونکہ اس وقت گرمی ہے تو صاف پانی باہر رکھتے ہیں۔ جن میں ڈینگی  کے مچھر افزائش پاتے ہیں۔ اگر مچھروں کے لیے ماحول سازگار ہوجائے توان کی تعداد ہزاروں سے لاکھوں میں چلی جاتی ہے۔ 

 وہ مزید کہتے ہیں کہ اگر شہری اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں تو نہ صرف اس کےپھیلاؤکو روکا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ لوگوں کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ 

ڈاکٹر یوسف کے مطابق: شہروں میں ڈینگی سے آگاہی کے لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز کےذریعے کام کیا جارہاہے۔ تاکہ وہ اس سے محفوظ رہ سکیں۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب تربت میں قائم ایک نجی میڈیکل سیںٹر کے ڈاکٹرافضل نے بتایا کہ صورتحال اس وقت تشویشناک ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے روزانہ کی بنیاد پر دس سے بارہ مثبت کیسز سامنے آرہے ہیں۔ 

ڈاکٹر افضل نے بتایا کہ جو مریض آرہے ہیں ان کا علاج کیا جارہاہے اور ٹیسٹ وغیرہ کرکے ان کو دوائیں دے رہے ہیں۔ تاہم مریضوں کی تعداد میں اضافہ جاری ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ اگر اس پر قابو پانے کےلیے اقدامات نہ اٹھائے تویہ مزید پھیل سکتا ہے۔ اگرکسی گھرمیں ایک فرد کو ڈینگی ہوجائے تو دوسرے بھی متاثر ہوسکتے ہیں، کرونا کے باعث اس کا مزید پھیلنا خطرناک ہوسکتاہے۔ 

ادھر محکمہ صحت ضلع کیچ کے حکام کرونا اور ڈینگی کے حوالےسے صورتحال کو نارمل قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں وباؤں کے روک تھام کےحوالے سے تمام اقدامات کیے جارہے ہیں۔ 

ضلعی ہیلتھ آفیسر کیچ ڈاکٹر رحیم بلیدی نے ‘انڈپینڈنٹ اردو’ کو بتایا کہ ہمارے علاقے میں ڈینگی کا وائرس سال 2019 سے موجود ہے۔ جو گرمیوں کے سیزن میں حملہ کرتا ہے۔ 

ڈاکٹر رحیم بلیدی کے بقول: گزشتہ سال بھی ڈینگی کے  کیسز میں اضافہ ہوا تھا۔ اس وقت صورتحال قابو میں ہے۔ کرونا اور ڈینگی دونوں کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں۔ 

ڈاکٹر رحیم  کے مطابق: ضلع کیچ میں چونکہ یہ مرض گرمیوں کے سیزن میں سامنے آتاہے جو اپریل کے مہینے سے شروع ہوتا ہے۔ اس علاقے میں گرمی زیادہ ہوتی ہے اس لیے لوگ پانی ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے ٹھنڈا کرنے کے لیے رات کو باہر رکھتے ہیں۔ جو ڈینگی کے مچھروں کی افزائش کا باعث بنتا ہے۔ 

وہ سمجھتے ہیں کہ اگرہمارے شہری اس دوران احتیاط کریں تو محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ مل کر اس کا مزید پھیلنے سے روک سکتے ہیں۔ 

 ڈینگی کو روکنے کے لیے ان کا کہنا تھا کہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہم اس کو انوائرمںٹ کنٹرول کے ذریعے روکتے ہیں۔  جس میں لاروے کا خاتمہ، فوگ اسپرے وغیرہ شامل ہے۔ جو محکمہ صحت کی نگرانی میں ضلعی انتظامیہ جس میں میونسپل کارپوریشن اور دوسرے ادارے مل کر کرتے ہیں۔ 

ڈاکٹر رحیم کے مطابق: چونکہ انوائرمنٹل کنٹرول محکمہ صحت نہیں کرتا بلکہ وہ دوسرے اداروں تکنیکی سہولت فراہم کرتا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ کرونا کی وبا کو بھی روکنے کے لیے سماجی دوری، سمارٹ لاک ڈاؤن اور دیگر اقدامات کیےجارہے ہیں اسی طرح ڈینگی کے پھیلاؤکو روکنے کے لیے ہم اپنے دستیاب وسائل کے اندر تمام  اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 

ڈاکٹر رحیم کے بقول: ہمارے جمع کردہ اعداد وشمار کے مطابق اپریل میں ڈینگی کے چوالیس، جب کہ اس وقت پچپن کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ 

انہوں نےبتایا کہ کرونا اور ڈینگی کی صورتحال کنٹرول میں ہے اور اس وقت کوئی بھی مریض ہسپتالوں میں داخل نہیں ہے۔ تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ 

ان کا مزید کہنا ہے کہ چونکہ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے۔ لوگ بعض چیزوں کو وہاں دیکھتے ہیں۔ اب اگر کسی نے اپنے مریض کو کراچی منتقل کیا ہے تو اس سے یہ مطلب نہ نکالا جائے کہ یہاں کوئی سہولت نہیں ہے۔ 

ڈاکٹر رحیم سمجھتے ہیں کہ چونکہ یہاں وائرس پہلے سے موجود ہے اور گرمیوں کے سیزن میں ہمیں اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس بار بھی سیزن میں اس کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔ 

Related Articles

Back to top button