ہر وقت موت کی آواز آتی ہے: بھارتی ڈاکٹر

روہن اگروال کی عمر 26 سال ہے، انہوں نے ابھی تک اپنی میڈیکل ٹریننگ بھی مکمل نہیں کی، لیکن بھارت کے ایک ہسپتال میں انہیں بحیثیت ڈاکٹر  کرونا (کورونا) وائرس کے خلاف جنگ لڑنی پڑ رہی ہے۔

بھارت میں گذشتہ دو ہفتوں سے روزانہ کی بنیاد پر تین لاکھ سے زائد کرونا مریضوں کی تشخیص ہو رہی ہے۔ ایسے میں بھارت کے تمام بڑے شہروں میں نظامِ صحت ڈگمگا گیا ہے۔ ہسپتالوں میں آکسیجن اور سہولیات کا فقدان ہے، مریضوں کے لیے جگہ کم پڑ چکی ہے اور میڈیکل عملے کو مسلسل 24، 24 گھنٹے کام کرنا پڑ رہا ہے۔

نئی دہلی کے ہولی فیملی ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر روہن اگروال بھی انہی ڈاکٹروں میں سے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ اب انہیں سوتے جاگتے آئی سی یو وارڈ میں کسی مریض کی موت کی آواز سنائی دیتی ہے۔

انہوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ‘یہ ایک بہت ہی مایوسی والا ماحول ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ بس ایک آدھ گھنٹہ ہسپتال سے باہر گزار لوں اور تازہ دم ہو جاؤں کیونکہ مجھے پھر 24 یا 28 گھنٹوں کے لیے اسی ماحول میں واپس آنا ہے۔

ساتھ ہی روہن کہتے ہیں کہ ‘ہمیں جو کام دیا گیا ہے وہ اصل میں خدا کے کرنے والا ہے کہ کسے بچانا ہے اور کسے مرنے دینا ہے۔ ہم اس کام کے لیے نہیں بنے۔ ہم تو صرف انسان ہیں۔’

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے روہن اگروال چھ سال کی عمر سے ہی ڈاکٹر بننا چاہتے تھے، کیونکہ اس پیشے کی بھارت میں بہت قدر ہے۔  وہ اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش کا شکار ہیں کہ کہیں وہ بھی اس وائرس کا شکار نہ ہوجائیں۔

روہن کو ابھی تک ویکسین نہیں لگی۔ رواں برس جنوری میں جب طبی عملے کو کرونا ویکسین لگائی جارہی تھی تو وہ بیمار تھے۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں خدشہ ہے کہ کہیں وہ بھی اس موذی وائرس کا شکار نہ ہوجائیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کے اپنے ہسپتال میں انہیں بستر نہیں مل سکے گا۔

ہولی فیملی بھارت کا ایک بہترین ہسپتال ہے، جہاں دنیا بھر سے علاج کے لیے مریض آتے ہیں، لیکن یہاں کی صورت حال بھی خراب ہے۔ وہ ہسپتال جہاں ایک وقت میں 275 بالغ افراد کو رکھنے کی گنجائش تھی، اب 385 مریضوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button