رونالڈو ٹرمپ ٹاور کا اپارٹمنٹ نصف قیمت سے بھی کم میں بیچنے پر مجبور

فٹ بال کے معروف کھلاڑی اور پرتگال ٹیم کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو نیویارک میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تعمیر کیے گئے ’ٹرمپ ٹاور‘ میں اپنا اپارٹمنٹ 10 ملین ڈالر (ایک ارب 56 کروڑ پاکستانی روپے سے زیادہ) نقصان میں فروخت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

’دا سن‘ کی رپورٹ کے مطابق 2015 میں فٹ بال سٹار نے 2500 مربع فٹ اپارٹمنٹ کے لیے 18.5 ملین ڈالر (دو ارب 90 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) ادا کیے تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ رونالڈو نے 2019 میں اپنے اس پرتعش اپارٹمنٹ کو تقریباً نصف قیمت یعنی محض نو ملین ڈالر میں اس وقت فروخت کے لیے پیش کر دیا تھا جب ان کے مداحوں نے انہیں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دور رہنے کے لیے ایک آن لائن پٹیشن پر دستخط کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا۔

تاہم کرونا (کورونا) کی وبا اور اچھی آفرز نہ ملنے کی وجہ سے اس لگژری پراپرٹی کی قیمت میں مزید کمی ہوگئی۔

رونالڈو نے اب گذشتہ ماہ مئی میں اس فلیٹ کی قیمت مزید کم کرتے ہوئے 7.75 ملین ڈالر (ایک ارب 21 کروڑ روپے سے زائد) مقرر کردی۔

رونالڈو کا یہ اپارٹمنٹ معروف ڈیزائنر جان پیبلو مولینیکس نے ڈیزائن کیا تھا جو اپنے ’میکسیمل ازم‘ سٹائل کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس اپارٹمنٹ میں تین بیڈ رومز ہیں جہاں سے نیویارک کے سینٹرل پارک کا 360 ڈگری زاویے سے نظارہ کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سٹار فٹبالر کے لگژری اپارٹمنٹ نہ بکنے کی بڑی وجہ اس کا بھاری بھرکم انٹیریئر ڈیزائن نہیں بلکہ ٹرمپ کی بطور صدر بدنام شہرت ہے۔

پراپرٹی کمپنی ’کربڈ‘ کے تجزیے اور رئیل اسٹیٹ ڈیٹا فرم ’اربن ڈِگز‘ کی جنوری 2021 کی رپورٹ کے مطابق نیویارک کے علاقے مین ہٹن میں واقع یہ ٹاور ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے 20 فیصد سے زیادہ قدر کھو چکا ہے۔

اس کے مقابلے میں اسی عرصے کے دوران مین ہٹن میں مجموعی طور پر فی مربع فٹ پراپرٹی کی قیمت میں صرف نو فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button