مائیکرو سافٹ ہیکنگ: چین کا امریکہ پر جوابی الزام

چین نے خود پر مائیکروسافٹ کو بڑے پیمانے پر ہیک کرنے کے امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ خود سائبر حملوں کا ’عالمی چیمپیئن‘ ہے۔

خیال رہے کہ پیر کو امریکہ نے چین پر مائیکروسافٹ کو ہیک کرنے کا الزام لگایا تھا اور مارچ میں کیے جانے والے اس مبینہ سائبر حملے کے الزام میں چار چینی شہریوں پر فرد جرم عائد کیا گیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن کا اس بارے میں کہنا ہے کہ مائیکروسافٹ ایکسچینج، یعنی دنیا میں کارپوریشنز کے بڑے ای میل سرور پر حملہ ’غیر ذمہ داری، انتشار انگیـزی، اور سائبر دنیا میں غیرمستحکم رویے کا سلسلہ تھا جس سے ہماری معیشت اور سکیورٹی کو خطرہ ہے۔‘

اسی طرح امریکہ محکمہ انصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چار چینی شہریوں پر 2011 سے 2018 کے درمیان امریکہ اور دیگر ممالک میں کمپنیز، یونیورسٹیز اور سرکاری اداروں کے درجنوں کمپیوٹرز ہیک کرنے پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

اس حوالے سے امریکی صدر جو بائیڈن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چینی حکومت بھی روس کی حکومت سے مختلف نہیں، وہ بھی یہ سب خود نہیں کرتی بلکہ انہیں تحفظ فراہم کر رہے ہیں جو ایسا کر رہے ہیں، اور شاید انہیں ایسا کرنے کے لیے مدد فراہم کر رہے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بائیڈن انتظامیہ نے ایک ’بے مثال‘ اقدام کے تحت اپنے اتحادیوں کے ہمراہ یہ بیان پیر کو جاری کیا ہے۔ یعنی یہ مربوط بیان امریکہ سمیت یورپی یونین، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، جاپان اور نیٹو کی جانب سے جاری کیا گیا۔

جواب میں نیوزی لینڈ میں چینی سفارت خانے نے فوری ردعمل دیتے ہوئے انہیں ’مکمل طور پر بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ‘ الزامات قرار دیا۔

اس کے بعد آسٹریلیا میں چینی سفارت خانے نے بھی ایسا ہی بیان جاری کیا ہے اور چین نے خود ہی ایک مربوط انداز اپناتے ہوئے آسٹریلیا پر ’امریکی اقدام کی پیروی‘ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

 چینی سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سب جانتے ہیں کہ امریکہ ’بے ایمانی سے، بڑے پیمانے پر اور کئی ممالک جن میں اس کے اتحادی بھی شامل ہیں بلا تفریق جاسوسی کر رہا ہے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ (امریکہ) خطرناک سائبر حملوں کا عالمی چیمپیئن ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

Back to top button