بلوچستان: زہریلے مواد والا جہاز آیا، کٹ بھی گیا مگر رپورٹ نہ آ سکی

بلوچستان میں گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں گذشتہ ماہ لنگر انداز ہونے والے متنازع جہاز کے حوالے سے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ تاحال منظرعام پر نہیں آ سکی ہے، جس پر ٹریڈ یونین کے رہنما بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

نیشنل ٹریڈ یونین فاؤنڈیشن کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور سمجھتے ہیں کہ یہ بہت ہی خطرناک صورت حال ہے کہ جب بین الاقوامی اداروں نے متنبہ کیا تھا کہ جہاز میں زہریلا مواد موجود ہے، اس کے باوجود نہ صرف جہاز کو لنگر انداز ہونے کی اجازت دی گئی بلکہ اس کی کٹائی بھی شروع کر دی گئی۔

ناصر منصور نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ متنازع جہاز سے زہریلا مواد ملا تیل نکال کر یارڈ پر پھینک دیا گیا۔ ’اس واقعے کو گزرے 15 روز ہو چکے ہیں لیکن نہ تو لیبارٹری رپورٹ ظاہر کی گئی اور نہ ہی کھلے آسمان تلے پڑے زہریلے مواد کو ہٹانے کا انتظام کیا گیا ہے۔‘

ان کے مطابق شپ بریکنگ میں کام کرنے والے مزدوروں کی زندگیوں کو ہی خطرہ نہیں بلکہ سمندری ماحول اور گڈانی کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

یاد رہے کہ چیریش نامی جہاز، جس کا نام تبدیل کر کے اسے یہاں لایا گیا، کے حوالے سے 27 اپریل کو انٹرپول نے پاکستان کو آگاہ کر دیا تھا کہ اس میں ممنوعہ کیمیکل مرکری (پارہ) موجود ہے، جو جہاز میں موجود تیل کے سلیج کے ساتھ ملا ہوا ہے۔

اس وارننگ کے باوجود نہ صرف جہاز پاکستان پہنچ گیا بلکہ کسٹم اور دیگر حکام کی اجازت کے بعد گڈانی کے شپ بریکنگ یارڈ میں پہنچا دیا گیا، جہاں پر اس کی کٹائی شروع کر دی گئی تھی۔

معاملہ میڈیا میں آنے کے بعد ڈپٹی کمشنر ضلع لسبیلہ کے دستخط سے 26 مئی کو ایک لیٹر جاری ہوا، جس میں واقعے کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو 48 گھنٹوں میں تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ اور سفارشات جاری کرے گی۔

انکوائری کمیٹی کے قیام کے بعد متعلقہ حکام نے شپ یارڈ کے پلاٹ نمبر 58 کا دورہ کیا، جو اس سے قبل سیل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے جہاز کے معائنے کے بعد تیل کے نمونے لیے جنہیں لیبارٹری بھیجا گیا، لیکن انکوائری کمیٹی کے قیام کے 15 دن گزر جانے کے باوجود کوئی رپورٹ منظر عام پر نہ آسکی۔

اس حوالے سے صوبائی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ’رپورٹ مکمل ہے جو جلد منظر عام پر آجائے گی۔‘

یاد رہے کہ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی بلوچستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمران سعید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتاتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ انہیں اسلام آباد سے جہاز کو روکنے کے حوالے سے لیٹر لکھا گیا تھا۔

عمران سعید نے بتایا کہ اس جہاز میں خطرناک کیمیکل مرکری کی موجودگی کا خطرہ ظاہر کیا گیا، جو خطرناک ہے اور اگر کسی کے جسم میں چلا جائے تو اس سے ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہونے کے علاوہ دیگر خطرناک امراض بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب جہاز کے مالک رضوان دیوان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جہاز کے آنے کے بعد تمام حفاظتی اقدامات مکمل کرنے کے بعد مزدوروں کو کام کی اجازت دی تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رضوان دیوان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے جہاز کو لانے کے بعد نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کرکے مرکری کی مقدار کا معائنہ کروایا، جس کی رپورٹ میں اس کی مقدار 150 دکھائی گئی۔

بقول رضوان دیوان: ’ابھی تک انکوائری رپورٹ سامنے نہیں آئی، بتایا جا رہا ہے کہ بس دو چار دنوں میں رپورٹ جاری ہو جائے گی۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس جہاز کو کاٹنے کے لیے ایک سو مزدوروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ارو کام نہ ہونے کے باعث ان کا روزانہ لاکھوں کا نقصان ہو رہا  ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے بتایا: ’جہاز میں خطرناک کیمیکل کے حوالے سے کوئی علم نہیں تھا، اگر ہوتا تو کبھی بھی جہاز کو خریدتے نہ اس کے قریب جاتے۔‘

ادھر نیشنل ٹریڈ یونین فاؤنڈیشن کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور نے بتایا کہ انہوں نے جب متنازع جہاز کا معائنہ کیا تو دیکھا کہ جہاز سے نکالا گیا سلیج قریب ہی زمین پر ڈمپ کرنے کے لیے ڈالا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ اور بھی خطرناک ہے کہ اس طرح مواد کو زمین پر ڈالا گیا ہے جس سے نہ صرف مزدوروں بلکہ سمندری حیات کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ سال 2016 میں بھی ایک جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے نتیجے میں کئی مزدور جھلس کر ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد بھی حکومت بلوچستان نے گڈانی میں جہازوں کے حوالے سے ایس او پیز جاری کیے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ کسی بھی جہاز میں ممنوعہ کیمیکل اور آتش گیر مواد کی چیکنگ اور معائنے کے بعد متعلقہ اداروں کی جانب سے تصدیقی اسناد جاری کی جائیں گی اور پھر اسے توڑنے کی اجازت دی جائے گی۔

بلوچستان کے ساحلی علاقے گڈانی میں دنیا کا تیسرا بڑا شپ بریکنگ یارڈ قائم ہے۔

شپ بریکرز یونین کے رہنما بشیر محمودانی کہتے ہیں کہ محکمہ ماحولیات، کسٹم، بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور اسسٹنٹ کمشنر کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز یہاں نہیں لایا جاسکتا۔ ’لیکن اگر اس کے باوجود کوئی جہاز یہاں پہنچا ہے تو ان تمام محکموں پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ انہوں نے کیسے اس کی اجازت دی۔‘

Related Articles

Back to top button