پاکستان میں بجلی ’وافر‘ ہے تو شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ کیوں؟

پاکستان میں گرمی کی شدت میں حالیہ اضافے کے ساتھ ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی شروع ہو چکی ہے۔ بیشتر شہری اور دیہی علاقوں میں بجلی بند ہونے سے شہری مشکلات سے دو چار ہیں جبکہ سکول کھلنے سے بچے بھی تعلیمی اداروں میں گرمی سے نڈھال دکھائی دیتے ہیں۔ کئی بچوں کے سکولز میں بے ہوش ہونے کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔

سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کے کارخانے لگائے گئے جس سے پیداوار سرپلس یا اضافی ہوگئی ہے لیکن موجودہ حکومت کی ناقص حکمت عملی کے باعث لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے کیونکہ بجلی کا شارٹ فال نو ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکا ہے۔

دوسری جانب وزارت بانی و بجلی کے اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بجلی کی مانگ 22 ہزار393 میگاواٹ ہے لیکن بجلی کے پیداواری نظام کی کل پیداور جمعرات کو 21 ہزار 800 میگاواٹ رہی۔ یوں فی الحال ملک میں 593 میگاواٹ کا شارٹ فال ہے۔ جبکہ ایک روز قبل 1500 میگاواٹ کا شاٹ فال تھا۔

شارٹ فال کیسے پیدا ہوا؟

پاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کے برابر رہی جس کی وجہ سابقہ دور حکومت میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے تحت کئی بجلی گھر بنائے گئے۔

رواں ہفتے گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ جب لوڈ شیڈنگ شروع ہوئی تو شہریوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔

وزارت پانی وبجلی کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ شارٹ فال عارضی ہے جس کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں چند روز میں بجلی کی فراہمی مکمل ہو جائے گی۔

پاکستان میں بجلی کی ترسیل کے ادارے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے عہدیدار کرنل سجاد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شارٹ فال کی وجہ سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوئی ہے۔

یہ کمی گرڈ سٹیشنز، ترسیل یا تقسیم کے نظام میں خرابی کے باعث نہیں ہے بلکہ تربیلا اور منگلا ڈیم میں گرمی سے پانی کم ہونے اور وہاں مرمت کا کام ہونے سے عارضی طور پر پیدا ہوئی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ن لیگ کا الزام اور حکومت کی وضاحت

سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے دعوی کیا ہے کہ ایک دن قبل تک ملک میں 25 ہزار میگاواٹ کی مانگ کے مقابلہ میں پیداوار صرف 16 ہزار میگاواٹ تک رہی جس کے مطابق شارٹ فال 9 ہزار تک پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’مسلم لیگ ن کی حکومت نے ملک میں 2018 تک 27 ہزار میگاواٹ سستی بجلی پیدا کرنے کا بندو بست کیا جس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ ختم ہوگئی تھی۔ لیکن موجودہ حکومتی نااہلی کے باعث دوبارہ لوڈ شیڈنگ شروع ہوگئی ہے کیوں کہ حکومت سے انتظام سنبھالا نہیں جارہا اور ان کی بد انتظامی سے لوگ پریشان ہیں۔‘

ان کے جواب میں وفاقی وزیر پانی و بجلی حماد اظہر نے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹے سے لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اس کی مختلف وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق ایک وجہ تربیلا ڈیم کی مرمت کا کام جاری ہے، تین سے چار روز میں مرمت مکمل ہوجائے گی اور تین ہزار میگاوواٹ بجلی واپس نظام میں آنے لگے گی۔

اس کے علاوہ کچھ تکنیکی مسائل پیدا ہوئے ہیں جس سے بجلی کا نقصان ہوا ہے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے دیگر بجلی گھروں سے بجلی حاصل کر کے نظام میں شامل کر دی گئی ہے۔

حماد اظہر کے مطابق ’لوڈ شیڈنگ کی وجہ بجلی کی قلت یا فراہمی میں رکاوٹ نہیں بلکہ یہ بہت زیادہ ہے۔ پورا سال بجلی سرپلس رہتی ہے کئی سو میگاواٹ بجلی ہم استعمال بھی نہیں کرتے لیکن ان کے کرائے کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔‘

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ لوڈ شیڈنگ کا عارضی مسئلہ دو تین روز میں حل ہو جائے گا۔

Related Articles

Back to top button