74 برسوں میں صرف تین بجٹ خسارے کے نہیں تھے

پاکستانی تاریخ کا پہلا بجٹ 1948 میں پیش ہوا، اور پہلا بجٹ ہی خسارے کا تھا جسے کم کرنے کے لیے پوسٹ کارڈ کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا۔

آج پاکستان کا74 واں وفاقی بجٹ پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ جب پاکستان بنا تھا تو اس کے پہلے بجٹ کا حجم کتنا تھا؟ پھر سالہا سال اس میں کیا تبدیلیاں آتی رہیں؟ خسارے کا آغاز کہاں سے ہوا تھا؟

اس حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان کا پہلا بجٹ ہی خسارے کا تھا جسے 28 فروری 1948 کو اس وقت کے وزیر خزانہ ملک غلام محمد نے پیش کیا تھا۔ اس کا کل حجم 89 کروڑ 68 لاکھ روپے تھا۔ آمدن 79 کروڑ 57 لاکھ تھی جبکہ خسارہ 10 کروڑ 11 لاکھ تھا۔ بجٹ میں سب سے زیادہ رقم ریل اور ڈاک کے محکمے کے لیے مختص کی جاتی تھی جو 37 کروڑ 15 لاکھ تھی، جبکہ ان شعبوں کی آمدن 36 کروڑ 68 لاکھ تھی۔

اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے پوسٹ کارڈ کی قیمت میں 30 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد دفاع کا نمبر تھا جس کے لیے مختص فنڈز 37 کروڑ 11 لاکھ تھے۔ اس وقت متحدہ پاکستان تھا جس کی آبادی ساڑھے چھ کروڑ تھی، بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے جن اشیا پر ٹیکس لگائے گئے ان میں پیٹرول، تمباکو، بیٹری، چھالیہ، شراب وغیرہ شامل تھے جبکہ خام کپاس، چمڑے اور کھال پر برآمدی ڈیوٹی لگا دی گئی۔

ملک غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کو یہ بھی بتایا تھا کہ 15 اگست 1947 سے 31 مئی 1948 کو پاکستان کو 23 کروڑ 41 لاکھ کا خسارہ ہو چکا ہے۔ ملک غلام محمد علی گڑھ کے فارغ التحصیل تھے اور اس سے پہلے ریاست حیدر آباد دکن کے وزیر خزانہ رہ چکے تھے۔

لیاقت علی خان کے بعد جب خواجہ ناظم الدین نے وزارت عظمیٰ سنبھالی تو ملک غلام محمد گورنر جنرل بنے۔ حیرت کی بات ہے پاکستان میں گذشتہ 74 سالوں میں صرف تین بجٹ ایسے تھے جو خسارے کے نہیں تھے ان میں سے ایک سال 1953-54 کا بجٹ تھا۔ اس وقت چوہدری محمد علی پاکستان کے وزیرخزانہ تھے۔ دوسرا بجٹ بھٹو دور میں 1972 کا تھا اور تیسرا جونیجو دور کا 1986-87 کا تھا۔

پاکستان کے پہلے دس سالوں میں ٹیکسٹائل انڈسٹری نے زبردست ترقی کی۔ سپنڈلز دو لاکھ سے 18 لاکھ اور لومز چار سے 28 لاکھ تک پہنچ گئیں۔ اسی طرح مشرقی پاکستان میں پٹ سن کی کوئی مشین نہیں تھی دس سال میں آٹھ ہزار مشینیں لگائی گئیں۔ چینی کی پیداوار بھی دوگنی ہو گئی۔ ایوب دور میں اگرچہ ترقی کا پہیہ تیزی سے گھوما لیکن ماہرین کے نزدیک جنرل صاحب صنعتی اشرافیہ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن گئے اور ان کی حکومت میں پلاننگ کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر محبوب الحق یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ کل صنعتی اثاثوں کا 66 فیصد، انشورنس کا 70 فیصد اور بینکنگ کا 80 فیصد صرف 22 خاندانوں کی ملکیت ہے۔ اسی صورتحال پر عوامی شاعر حبیب جالب نے کہا تھا کہ

بیس گھرانے ہیں آباد
اور کروڑوں ہیں ناشاد
صدر ایوب زندہ باد

بعد میں جنر ل یحییٰ کے دور کے دونوں بجٹ بھی خسارے کے تھے۔ 1971 میں جب پاکستان دو لخت ہو گیا تو 1972 میں بھٹو نے پہلا بجٹ پیش کیا جس کا حجم آٹھ ارب 96 کروڑ سے زائد تھا لیکن یہ خسارے کا بجٹ نہیں تھا کیونکہ بھٹو لیبیا اور خلیجی ممالک سے کافی پیسہ مانگ لائے تھے۔ بھٹو نے آخری بجٹ 1977-78 کا پیش کیا جس میں خسارہ دو ارب 36 کروڑ تک پہنچ گیا تھا۔ بھٹو کے وزرائے خزانہ میں مبشر حسن اور عبدالحفیظ پیرزادہ جیسے ماہرہن شامل تھے۔

ضیاء الحق کا پہلا بجٹ 1978-79 کا تھا جس کا حجم 46 ارب 72 کروڑ 8 لاکھ تھا جس میں خسارہ پانچ ارب 99 کروڑ 81 لاکھ تھا۔ ضیا کے وزیر خزانہ غلام اسحٰق خان تھے جو 1977 سے 1985 تک اپنے عہدے پر رہے۔ بعد میں جب جونیجو کی حکومت آئی تو معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر محبوب الحق کو وزارت خزانہ کا قلمدان ملا۔ انہوں نے 1986-87 کا جو بجٹ بنایا اس کا حجم ایک کھرب 52 ارب 21 کروڑ تھا جس میں آمدنی کا تخمینہ ایک کھرب 52 ارب اور 89 کروڑ تھا۔ اس طرح یہ 47 کروڑ سرپلس کا بجٹ تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ آخری بجٹ تھا جو منافع کا تھا اس کے بعد آج 35 سال گزر گئے ہیں سارے بجٹ خسارے کے ہی رہے ہیں۔

پاکستان کی پہلی چار دہائیوں میں اقتصادی ترقی کی رفتار چھ فیصد سالانہ رہی فی کس سالانہ آمدنی دوگنی ہو گئی۔ 1980 کی دہائی کے آخر تک غربت 46 فیصد سے کم ہو کر 18 فیصد ہو گئی۔ قیام پاکستان کے وقت ڈالر ڈھائی روپے کا تھا جو 1987 تک 17 روپے سے اوپر جا چکا تھا۔ قیام پاکستان کے وقت سونے کی فی تولہ قیمت 57 روپے تھی جو 1987 میں 3300 روپے تولہ ہو چکی تھی۔

بےنظیر بھٹو نے دو بجٹ پیش کیے دوسرے بجٹ یعنی 1989-90 میں خسارہ 55 ارب تک جا پہنچا۔ پھر نوازشریف آ گئے۔ ان کے وزیر خزانہ سرتاج عزیز تھے جن کے دور میں بجٹ خسارہ کل بجٹ کے تیسرے حصے تک پہنچ گیا جو کہ 1993-94 میں ایک کھرب 17 ارب روپے تھا۔

اس کے بعد بےنظیر بھٹو کے دور میں بھی بجٹ خسارہ کم و بیش اتنا ہی رہا۔ مئی 1998 میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگ گئیں۔ جس سے پاکستان کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے ملنے والے دو ارب ڈالر بھی رک گئے۔ ڈالر جو کہ دھماکوں سے پہلے 45 روپے کا تھا وہ 63 روپے تک پہنچ گیا۔

پاکستان میں اقتصادی ترقی کی شرح 1990 کے بعد ویسے بھی گراوٹ کا شکار تھی جو تین سے چار فیصد سالانہ تھی ایٹمی دھماکوں کے بعد وہ 1.3 فیصد تک گر گئی۔ غربت کی شرح جو پہلے 18 فیصد تک تھی اب پھر بڑھ کر 33 فیصد تک پہنچ گئی۔

پرویز مشرف حکومت کے دور میں شوکت عزیز پہلے وزیر خزانہ اور بعد میں وزیر اعظم بنے۔ اس دوران پاکستان کے پڑوس میں جنگ جاری تھی جس سے پاکستان کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی مگر اس کے باوجود شوکت عزیز کی پالیسیوں کی بدولت 2005 میں پاکستان میں اقتصادی ترقی کی شرح 7.7 فیصد تک پہنچ گئی اور غربت کی شرح بھی 32 فیصد سے کم ہو کر 17 فیصد پر آ گئی۔

2007-8 میں پیپلز پارٹی کا دور آیا جس نے پانچ سالوں میں چار وزرائے خزانہ بدلے۔ نوید قمر، شوکت ترین، عبد الحفیظ شیخ اور سلیم مانڈی والا اوپر تلے وزیر خزانہ رہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنا آخری بجٹ 2012-13 میں پیش کیا جس میں بیرونی قرضے 56 ارب ڈالر سے بڑھ گئے اور ڈالر کی قیمت 100 روپے ہو گئی۔

پھر نواز شریف کی حکومت آئی اور اسحٰق ڈار وزیر خزانہ بنے۔ نوزشریف حکومت کا آخری بجٹ 2018-19 کا ان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیش کیا جس کا حجم 5661 ارب روپے تھا۔ جبکہ جی ڈی پی کی شرح 5.8 تھی۔ مسلم لیگ ن نے جب حکومت چھوڑی تو ملک پر تقریباً 30 ہزار ارب روپے کا قرضہ تھا۔ اس کے بعد عمران خان کی حکومت آئی تو اس نے پہلے تین سالوں میں چار وزرائے خزانہ بدلے جبکہ قرض کی رقم میں 15 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہو گیا۔

آج ڈالر 154 روپے کا ہے۔ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 3.9 فیصد ہے جو اس کی بڑی کامیابی ہے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے دور کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کہہ رہے ہیں کہ جتنے قرضے تمام حکومتوں نے لیے تھے اتنے قرضے پی ٹی آئی کی حکومت نے محض تین سالوں میں لے لیے ہیں۔ ن لیگ کے دور میں بجٹ خسارہ آٹھ کھرب روپے تک تھا جبکہ موجودہ دور میں دس کھرب سے زیادہ ہو چکا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے بیرونی قرضوں میں اضافہ 1990 کے بعد ہوا ہے۔ پہلے 43 سالوں میں پاکستان پر 20 ارب ڈالر قرض تھا جو اگلے 30 سالوں میں بڑھ کر 116 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ غربت کی شرح 40 فیصد کی بلند ترین سطح پر ہے۔

Related Articles

Back to top button