وفاقی بجٹ: ’اپوزیشن کو اتنا نہیں پتہ زیادہ آواز پتلی کتاب سے آتی ہے‘

قومی اسمبلی میں جمعے کو ملک کے سب سے اہم موضوع پر بات کی گئی جس سے ملک کے ہر ایک فرد کا تعلق کسی نہ کسی طرح رہتا ہی ہے اور ہر ایک ہی کو اس دن کا انتظار رہتا ہے۔

یہ دن تھا ملک کے وفاقی بجٹ کو پیش کرنے کا، جسے جب پیش کیا جا رہا تھا تو وہ جماعتیں ڈیسک بجاتی رہیں جن کے ارکان  نے اس اجلاس کے بعد ابھی مختلف ٹی وی چینلوں پر اسی بجٹ کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے بجٹ کے لیے تقریر کا آغاز کیا تو اپوزیشن مسلسل بجٹ تقریر کی کاپیاں ڈیسک پر بجاتی رہی، تاثر یہ ابھر رہا تھا جیسے ژالہ باری ہو رہی ہو لیکن یہ بجٹ کی کاپیوں کی آواز تھی جسے اپوزیشن ارکان ڈیسکوں پر مار رہے تھے۔

بجٹ کاپیوں کو ڈیسک پر بجانے پر وزیراعظم کے مشیر شہباز گل نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کو اتنا نہیں معلوم کہ زیادہ آواز پتلی کتاب مارنے سے آتی ہے، موٹی کتاب سے نہیں۔‘

اجلاس کے دوران اپوزیشن نے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جس پر ’گو نیازی گو‘ اور ’قرضستان‘ وغیرہ کے نعرے درج تھے۔

دوسری جانب ملک کے وزیراعظم عمران خان ایسے بیٹھے تھے جیسے کچھ ہو ہی نہیں رہا اور اپوزیشن کے شور شرابے کو مسلسل نظر انداز کیے رکھا۔

وہاں موجود ایک صحافی نے کہا کہ یہ تو کچھ بھی نہیں ماضی میں بجٹ تقریر کی کاپیاں بھی پھاڑی جاتی رہی ہیں۔

شور کی وجہ سے شوکت ترین کو تقریر کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا جس کی وجہ سے وہ بار بار رکتے رہے، جس کا حل انہوں نے بعد میں یہ نکالا کہ کانوں میں ائیر بڈز لگا لیے تاکہ توجہ کے ساتھ تقریر جاری رکھ سکیں۔

جبکہ اپوزیشن ’مک گیا تیرا شو نیازی گو نیازی گو اور آٹا چینی گیس چور‘ کے نعرے لگاتی رہی۔

بجٹ سے قبل حکومتی پارلیمانی پارٹی، اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اور الگ الگ اپنے چیمبرز میں بھی اجلاس ہوا۔ اپوزیشن نے اپنے اجلاس میں احتجاج کی حکمت عملی طے کی اور پلے کارڈز تیار کیے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بجٹ سیشن کے آغاز سے قبل جب وزیراعظم ایوان میں جا رہے تھے تو گیلری میں کھڑے صحافیوں نے پوچھا کہ کیا آج کا بجٹ عوام دوست ہو گا؟ تو وزیراعظم نے چلتے ہوئے جواب دیا کہ ’آج سب خوش ہوں گے آپ۔‘

ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی خیل داس کوہستانی ایوان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کی مسلسل تصاویر اور وڈیوز بناتے رہے تاکہ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر سکیں۔

پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے تو بجٹ تقریر کی کاپی سے صفحہ پھاڑا اور جہاز بنا کر اڑا دیا۔

ن لیگ کے ڈیسک سے خاتون رکن نے کچھ صفحے بھی پھاڑے۔ اسی دوران چار بج کر 32 منٹ پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ساتھ ہی احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق سے مشاورت کی۔

ان کی دیکھا دیکھی بلاول بھٹو بھی نشست سے کھڑے ہو گئے۔

دریں اثنا مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب، رومینہ خورشید عالم کے ہمراہ دیگر اراکین حکومتی بینچوں کے پیچھے آ گئے تاکہ شوکت ترین کے پیچھے کیمرے میں نظر آ سکیں۔

لیکن پی ٹی وی کی ٹیم نے کیمرے کا زاویہ بدل دیا تاکہ پیچھے بینرز نظر نہ آ سکیں۔

یہ سب دیکھ کر حکومتی اراکین اٹھ کر ن لیگ کے احتجاجی اراکین کے پاس آ گئے اور تحریک انصاف کی رکن اسمبلی اسما حدید نے ایک حکومت مخالف بینر بھی پھاڑ ڈالا جس سے تحریک انصاف اور ن لیگ اراکین کے مابین تکرار شروع ہو گئی۔

سب صحافی گیلری میں کھڑے ہو کر ایوان کے اندر ہونے والی اس ہنگامہ آرائی کو دیکھ رہے تھے تو پاس کھڑے سکیورٹی اہلکار نے کہا ’پلیز آپ اپنی نشست پر واپس بیٹھ جائیں یہ تو اراکین اسمبلی کے روز کے ڈرامے ہیں ابھی یہ یہاں سے نکل کر اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔‘

ن لیگ کے رکن اسمبلی ریاض پیرزادہ جو اندر بجٹ تقریر کی کاپی اٹھا کر ڈیسک بجا کر احتجاج کرتے رہے جب باہر آئے تو ان سے صحافیوں نے پوچھا کہ بجٹ پر کیا کہیں گے تو انہوں نے کہا ’میں تو زمیندار آدمی ہوں مجھے بجٹ کی سمجھ ہی نہیں۔‘

Related Articles

Back to top button