شوکت صدیقی نے تقریر میں ’اپنا بغض‘ نکال دیا: عمر عطا بندیال

جسٹس عمر عطا بندیال نے سابق جج شوکت صدیقی کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ شوکت صدیقی نے تقریر میں ’اپنا بغض‘ نکال دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے برطرف جج شوکت عزیز صدیقی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ملک کے اداروں کا دفاع کرنا ہے اگر اداروں کا تحفظ ہم نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل کی سماعت جمعہ کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی۔

اس دوران جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ’متعلقہ فورم ہونے کے باوجود یہ نئی روش کا آغاز ہوا ہے کہ سب کچھ پبلک کر دیں۔‘

جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دیے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے سب مواد موجود تھا اور اس سے انکار نہیں کیا گیا جبکہ جسٹس اعجاز الااحسن نے استفسار کیا کہ ’آپ صرف دو سوالوں کے جواب دیں۔ کیا یہ تقریر جج کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی تھی یا نہیں؟ ہمیں یہ بھی سمجھا دیں کہ کونسل کو مزید انکوائری کی ضرورت تھی یا نہیں؟‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’آئین میں کسی جج کو وزیر اعظم یا پارلیمان فارغ نہیں کر سکتا۔ سپریم جوڈیشل کونسل جج کے مدت ملازمت کے تحفظ کے لیے ہے۔‘

شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں اوپن ٹرائل کی درخواست دی جو مسترد کر دی گئی۔

’جج کی مدت ملازمت کے تحفظ کے لیے اس کو بہت سے طریقہ کار دیے گئے ہیں۔ انکوائری ہونا چاہیے تھی تاکہ سچ سامنے آ جاتا۔‘

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ ’کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ ادارے پر حملے کی صورت میں پہلے تحفظات سے آگاہ کر دیا جاتا؟‘ تو حامد خان نے جواب میں کہا کہ ’چیف جسٹس پاکستان سے ملنے کے لیے شوکت عزیز صدیقی نے چار مرتبہ اپائنٹمنٹ لی جو قبول نہیں کی گئی۔‘

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ’یہ مان بھی لیں کہ شوکت عزیز صدیقی نے جو کہا سچ تھا تو کیا انہیں عدلیہ کے اندر معاملہ حل نہیں کرنا چاہیے تھا؟ شوکت عزیز صدیقی کو ایسے معاملے پر خود توہین عدالت کا نوٹس کرناچاہیے تھا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وکیل حامد خان نے کہا کہ ’شوکت عزیز صدیقی نام نہ لیتے تو بھی جرم، نام لے لیا تو بھی جرم۔ جب معاملہ چیف جسٹس صاحبان کے علم میں آیا تو انہوں نے بھی توہین عدالت کا نوٹس نہیں لیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے خلاف جو کرنا ہے کریں۔ شوکت صدیقی نے تقریر میں جن کا نام لیا ان سے بھی پوچھا جائے۔

اس دوران شوکت صدیقی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ سماعت کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ سماعت میں کیا خاص رہا تو انہوں نے کہا کہ ان کے لیے ساری سماعت ہی اہم ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے حامد خان کے دلائل بغور سننے کے بعد ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی چیف جسٹس کو رپورٹ بھیجتے تو وہ اس پر ایکشن لیتے لیکن شوکت عزیز صدیقی نے ایسا کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر مداخلت کی بات ہے تو عدلیہ کی آزادی کے کئی اور پہلو بھی ہیں۔ اگر ایک جج غلط کرتا ہے تو پوری عدلیہ کا ٹرائل شروع ہو جاتا ہے۔ شوکت عزیز صدیقی کا مداخلت کے لیے پبلک فورم کا استعمال غلط تھا۔ شوکت عزیز صدیقی خاموشی سے انٹیلیجنس اداروں کے اہلکاروں سے ملتے رہے۔‘

جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ شوکت عزیز صدیقی اگر بنچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھ سکتے تھے تو اس معاملے پر کیوں نا لکھا؟

حامد خان نے جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ جو ہو رہا تھا انہوں نے عوام میں بتا کر جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے اس پر کہا کہ ’عوام کو بتانا جرات نہیں ہتھیار پھینکنا ہے۔‘

حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے اجازت دینی چاہیے تھی کہ تقریر کا مقصد بتاتا، اس تقریر کا مقصد عدلیہ کو بدنام کرنے کی نہیں نظام کو بہتر کرنے کی تھی۔ سپریم جوڈیشل کونسل کو خطرہ تھا کہ اگر انکوائری شروع ہوئی تو میرا موکل جرنیلوں کو بلانے کا کہے گا۔ اسی خطر سے بچنے کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل نے میرے خلاف ایسے باتیں کی۔‘

عدالت نے کہا کہ 14 جون سے سپریم کورٹ میں گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہو رہی ہیں لیکن ہمیں 30 جون کا خیال ہے، آرڈر کر رہے ہیں کہ جیسے ہی بنچ دستیاب ہو گا مقدمہ اس دوران سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔

عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

Related Articles

Back to top button