خضدار بس حادثہ: ’زیادہ تر وہ لوگ مرے جو چھت پر تھے‘

بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک مسافر کوچ تیز رفتاری کے باعث گہری کھائی میں جا کری جس کے نتیجے 20 افراد ہلاک اور 37 زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے 13 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ 

سول ہسپتال خضدار میں موجود پیرامیڈیکس سٹاف فہیم منظور نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ لوگ وڈھ کے علاقے کاکا ہیر میں پیر عبدالقادر کے عرس میں شرکت کرنے کے بعد رات کو واپس آ رہے تھے کہ ان کی بس کھائی میں جا گری۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ایم 8 شاہراہ پر یہ سب سے بڑا حادثہ ہے۔ تمام زخمی اس وقت ڈپریشن کی حالت میں ہیں اور وہ بات کرنے کے قابل بھی نہیں۔‘

فہیم کے مطابق ’یہ لوگ رات کو واپس دادو سندھ جا رہے تھے جب صبح کے تین بجے ان کی گاڑی حادثے کا شکار ہوئی۔ اکثر زخمیوں کو سینے، سر یا چہرے پر چوٹیں لگی ہیں۔ زخمیوں میں مزید ہلاک ہونے کے باعث اب تعداد 20 ہوگئی ہے۔‘ 

’ہلاک ہونے والوں میں اکثر وہ لوگ ہیں جو چھت پر بیٹھے تھے، جن میں بعض کی موت حادثے کے وقت ہی ہوگئی تھی جبکہ دیگر نے ہسپتال میں دم توڑا۔‘ 

فہیم نے بتایا کہ چونکہ وہ خود بھی اسی علاقے کے رہائشی ہیں جہاں سے یہ زائرین آرہے تھے، تو شاہراہ کی خستہ حالی کے باعث حادثات معمول ہیں۔ 

ڈپٹی کمشنر خضدار بشیر احمد بڑیچ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ زائرین وڈھ کے علاقے کاکا ہیر میں پیر عبدالقادر کے عرس میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے کہ بھلونک کے مقام پر ان کی گاڑی تیز رفتاری کے باعث کھائی میں جاگری۔ 

انہوں نے بتایا کہ تمام زخمیوں اور لاشوں کو سول ہسپتال خضدار منتقل کر دیا گیا ہے۔ شدید زخمیوں میں بعض کو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ 

یاد رہے کہ اسی شاہراہ پر گزشتہ سال بھی زائرین کی گاڑی الٹنے کے باعث 16 زائرین ہلاک ہوئے تھے ۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 اس شاہراہ کے حوالے سے سماجی کارکن نجیب زہری نے بتایا کہ یہ انتہائی خستہ حال ہے اور یہاں پر سفر خطرے سے خالی نہیں۔ 

 نجیب کے بقول: شاہراہ پر سٹرک کی حالت خراب ہونے اور لینڈ سلائیڈنگ بھی یہاں ہوتی رہتی ہے۔ پانی کے چشموں کے باعث سٹرک کے کنارے کٹتے رہتے ہیں۔ جو اکثر حادثات کا باعث بنتا ہے۔ 

وڈھ کاکا ہیر کا علاقہ خضدار شہر سے تقریباً 40 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جہاں پیر عبدالقادر نقشبندی کا مزار ہے۔ جہاں سندھ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے عقیدت مند عرس میں شرکت کرتے ہیں۔ 

 مذکورہ حادثے کا شکار ہونے والے زائرین کا تعلق بھی سندھ سے تھا۔

 عینی شاہدین کے مطابق بس میں مسافروں کی تعداد زیادہ تھی اور بعض افراد بس کی چھت پر بھی سوار تھے۔ جس کی وجہ سے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ 

 حادثے کی اطلاع ملنے پر ڈپٹی کمشنر خضدار تحصیلدار لیویز فورس کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔ 

 نجیب زہری کے مطابق یہ سی پیک کا اہم روٹ ایم 8 شاہراہ ہے۔ جو رتو ڈیرہ شاہراہ کو منسلک کرتی ہے۔ 

Related Articles

Back to top button