بین الاقوامی معیار کا پشاور فلائنگ کلب دو سال سے بند کیوں؟

مومن ریاض کا خواب تھا کہ وہ پائلٹ بنیں۔ اسی خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انھوں نے پشاور فلائنگ کلب میں تربیت حاصل کرنے کے لیے سال 2018 میں تقریباً 17 لاکھ روپے جمع کرائے۔ تاہم ان کی ٹریننگ شروع ہونے سے پہلے ہی کلب معاشی بحران کی وجہ سے بند ہوگیا۔

مومن کہتے ہیں کہ ‘میں نے جب فیس جمع کرائی تو ہمیں بتایا گیا کہ کلب کو معاشی بحران کا سامنا ہے اس لیے ٹریننگ بند کرنا پڑے گی۔ تاہم ہمیں ساتھ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک گھنٹہ کے 10 ہزار مزید جمع کرانے ہوں گے۔’

مومن نے پشاور کلب سے تربیت تو حاصل نہیں کی لیکن ان کی جمع کرائی گئی فیس ابھی تک ان کو واپس نہیں ملی۔ انھوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 17 لاکھ میں سے تین لاکھ انہیں واپس ملے ہیں۔ تاہم 14 لاکھ ابھی تک کلب کے ذمہ واجب الادا ہیں اور بار بار یاد دہانی کے باوجود ان کو پیسے واپس نہیں کیے جا رہے۔

انھوں نے بتایا ‘چونکہ میرا شوق تھا کہ ٹریننگ مکمل کر سکوں اس لیے میں نے کراچی کے ایک اور کلب میں داخلہ لے لیا جس کے لیے مجھے وہاں مزید پیسے جمع کرانے پڑے۔ یوں یہ ٹریننگ مجھے 60 لاکھ روپے میں پڑی ہے۔ پشاور فلائنگ کلب بند ہونے کی وجہ سے اب ہمیں ٹریننگ کے بعد تجربہ حاصل کرنے کے لیے بھی بہت مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ اس کے لیے دوبارہ کراچی جانا پڑے گا۔’

مومن ریاض کے علاوہ درجنوں طلبہ اور بھی ہیں جنھوں نے اس کلب میں فیس جمع کرائی لیکن ان کے پیسے اب تک پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو واپس نہیں کیے جا رہے۔

خیبر پختونخوا کا واحد بین الاقوامی معیار کا پشاور فلائنگ کلب گزشتہ دو سالوں سے کرائے کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے جانب سے سیل کردیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے پلائلٹ بننے کے خواہش مند طلبہ ادا کی گئی گئی فیس کی واپسی کے لیے کئی مہینوں سے انتظار کر رہے ہیں۔

پشاور فلائنگ کلب صوبے کا پہلا اور واحد خود مختار کلب تھا جس کی بنیاد سال 1956 میں رکھی گئی تھی۔ اس کلب کا بنیادی مقصد پرائیویٹ پائلٹ لائسنس (پی پی ایل)، کمرشل پائلٹ لائسنس (سی پی ایل) سمیت ایئرلائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس کے کورس کرانا تھا۔ جبکہ ساتھ میں یہی کلب صوبائی حکومت کے لیے چارٹرڈ فلائٹس کی خدمات بھی فراہم کر رہا ہے۔

اس کلب سے اب تک کئی قومی اور بین الاقوامی پائلٹس نے کورسز مکمل کر رکھے ہیں۔ جنہوں نے اپنے لائنسنس بھی یہاں سے حاصل کیے ہیں۔ کلب کے اعداد وشمار کے مطابق ابھی تک 941 پاکستانی جبکہ 100 کے قریب بین الاقوامی طلبہ اس کلب سےفارخ التحصیل ہیں۔

 ان میں سے 493 پرائیویٹ پائلٹ لائسنس جبکہ 426 کمرشل پائلٹ لائسنس کے لیے کوالیفائی کر کے مختلف ممالک میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

یہ تاریخی کلب ‘معاشی بحران ‘ کی وجہ سے گزشتہ دو سالوں سے بند پڑا ہے۔ جس عمارت میں یہ کلب واقع ہے وہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ملکیت ہے۔ کلب کو کرائے کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے دو سال پہلے سیل کردیا تھا۔

 اس کلب کے ایک فلائنگ انسٹرکٹر نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘پشاور فلائنگ کلب کے پاس مجموعی طور پر چھ ایئر کرافٹس موجود تھے۔ جن میں دو سیسنا 150، ایک سیسنا 172، ایک پائپر آزٹک، ایک موٹر گلائڈر جبکہ ایک بیچ سپر کنگ 200 ایئر کرافٹ موجود تھے۔ یہ انسٹرکٹر کلب بند ہونے کی وجہ سے اب ملازمت پر نہیں جا سکتے۔

انھوں نے بتایا کہ ‘کلب کے معاشی بحران کی مختلف وجوہات ہیں جس میں بنیادی وجہ کلب کے پاس موجود وسائل کی کمی اور کلب کے معاشی معاملات میں خرد برد ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ ‘کلب کو دو سال پہلے بند کردیا گیا تھا جس کے ساتھ فلائٹ آپریشنز بھی بند کر دیے گئے کیونکہ کلب میں ایسا کوئی ایئر کرافٹ نہیں بچا ہے جس کو استعمال کیا جا سکے۔’

انھوں نے بتایا کہ ‘طلبہ اس وقت پیشگی طور تقریبا ڈیڑھ کروڑ تک فیس جمع کرا چکے ہیں لیکن کلب بند پڑا ہے اور نہ کلب کے پاس ان طلبہ کو پیسے واپس کرنے کے لیے فنڈز موجود ہیں۔ کلب کے پاس ایندھن اور عملے کی تنخواہوں کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔’

پشاور فلائنگ کلب ایک خود مختار ادارہ ہے جبکہ اس کے لائسنس وغیرہ کی ذمہ داری سول ایوی ایشن کے پاس ہے۔

 یہ کلب ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز کے زیر انتطام چلتا ہے۔ کلب کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ایک سابق رکن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 2012 سے پہلے کلب کے پاس کیش میں تقریبا سات کروڑ روپے پڑے تھے لیکن 2012 کے بعد ان تمام فنڈ کو خرچ کر دیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ کلب کے لیے دو ایئر کرافٹس لندن سے خریدے گئے جن کی قیمت آٹھ سے 10 لاکھ روپے تھی لیکن بعد میں جب ان کو یہاں لایا گیا تو ان کے سپیئر پارٹس اور مینٹیننس پر قیمت فی ایئرکرافٹ 50 لاکھ تک جا پہنچی اور مجموعی طور پر یہ دو ائیرکرافٹس کلب کو ایک کروڑ میں پڑے۔ تاہم بعد میں ان میں سے ایک ائیرکرافٹ کو راولپنڈی فلائنگ کلب کو فروخت کر دیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ‘صوبائی حکومت نے ایک وی آئی پی ائیرکرافٹ ‘سیسنا 421 گولڈن ایگل ملٹی انجن’ کلب کے لیے خریدا تھا لیکن اس کو پاکستان کے ایک مشہور ٹی وی میزبان کو بیچ دیا گیا۔ ٹی وی میزبان کو یہ ائیرکرافٹ 30 لاکھ میں بیچا گیا جبکہ اس کی مارکیٹ میں قیمت تقریباً 50 لاکھ تھی۔’

اسی کلب کے ایک اور فلائنگ انسٹرکٹر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کلب کے موجود سی ای او اختر منیر مروت نے ایک سابق سی ای او سے ریکوری بھی کی تھی اور اس سارے معاملے کی تفتیش بھی کی گئی تھی۔ لیکن کلب کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کیس کو فیڈرل انونسٹیگیشن ایجنسی کے حوالے نہیں کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کلب کے موجودہ بورڈر آف ڈائریکٹرز کے رکن نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ‘صوبائی حکومت بھی وقتاً فوقتاً کلب کو گرانٹ دیتی رہتی تھی۔ کلب بند ہونے سے پہلے بھی حکومت نے چھ کروڑ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس میں صرف دو کروڑ کلب کو دیے گئے تھے جبکہ باقی چار کروڑ ابھی تک کلب کو نہیں ملے۔’

پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تعینات سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ‘کلب کو کرائے کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بند کردیا گیا ہے۔’ جبکہ اس معاملے کی مزید تفصیل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے نام ایک درخواست لکھ کر حاصل کی جا سکتی ہے۔

فلائنگ کلب میں مبینہ کرپشن کی تفتیش

پشاور فلائنگ کلب کی بندش کی وجوہات اور اس کے فنڈز میں مبینہ خرد برد کی تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔ اس کے لیے خیبر پختونخوا کے سابق معاون خصوصی برائے اینٹی کرپشن شفیع اللہ، جو اب مشیر برائے جیل خانہ جات ہیں، نے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے نام ایک خط (جس کی کاپی انڈپیندنٹ اردو کے پاس موجود ہے) رواں سال جنوری میں لکھا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ کلب کے فنڈز اور اس کے معاملات کی تفیتش شروع کی جائے اور اس کی رپورٹ ہفتہ وار بنیاد پر جمع کرائی جائے۔

رواں سال مارچ میں اینٹی کرپشن کے ایک نوٹیفیکشن میں متعلقہ سیکرٹری کو کلب کے معاملات کی تفیتش کے لیے ہدایت جاری کی گئی تھیں۔ یہ کیس تاحال اینٹی کرپشن ڈائریکٹریٹ میں چل رہا ہے جس کی رپورٹ آنا باقی ہے۔

کلب کے ان تمام معاملات کےحوالے صوبائی مشیر اطلاعات کامران خان بنگش نے انڈپینڈنٹ اردو کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وہ متعلقہ شعبے سے اس حوالے سے تفصیل حاصل کر کے آگاہ کریں گے۔

کامران بنگش کی جانب سے موقف دیے جانے کے بعد اس کو اس خبر میں شامل کیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button