فیٹف کا بھارتی بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز 

فننانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) نے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے پاکستان سے متعلق حالیہ بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’ہماری وجہ سے پاکستان فیٹف کی توجہ کا وجہ بنا اور اسے گرے لسٹ میں ڈالا گیا۔‘ 

بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک ٹریننگ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جے شنکر نے مزید کہا تھا کہ ’ہم پاکستان پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہے ہیں اور پاکستان کے برتاؤ میں تبدیلی بھارت کے متعدد اقدامات کے دباؤ کی وجہ سے ہے۔‘ 

بھارتی وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعد پاکستانی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا تھا جس کے مطابق پاکستان ہمیشہ سے ہی بھارت کی جانب سے فیٹف کے عمل کو سیاسی مقاصد کے استعمال کے خلاف آواز اٹھاتا رہا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’بھارتی وزیر خارجہ کا حالیہ بیان اس چیز کا ثبوت ہے کہ بھارت ایک اہم تکنیکی فورم کو پاکستان کے خلاف اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔‘ 

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا تھا کہ ’بھارتی اعتراف کے بعد اس کے بطور فیٹف کے شریک سربراہ پاکستان کا جائزہ لینے کی اہلیت پر سوال اٹھتے ہیں اور ہم فیٹف پر اس معاملے کو دیکھنے پر زور دیتے ہیں۔‘ 

انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے فیٹف سے ان کا موقف معلوم کرنے کے لیے بذریعہ ای میل رابطہ کیا اور ان سے بھارتی وزیر خارجہ کے بیان، پاکستان کے جواب اور اس پر فیٹف کے ممکنہ اقدامات کے حوالے سے دریافت کیا۔

فیٹف کے ترجمان نے بذریعہ ای میل اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’فیٹف میڈیا رپورٹس یا اس کے جائزہ عمل سے باہر کے واقعات پر تبصرہ نہیں کرتا۔‘ 

’فیٹف ایک تکنیکی تنظیم ہے جو اپنے سخت تکنیکی معیار کو مد نظر رکھ کر فیصلے کرتی ہے۔ فیٹف میں فیصلہ کرنے کے لیے پلینری موجود ہے جو کہ 37 رکن ممالک اور 2 رکن تنظیموں پر مشتمل ہے۔ فیٹف اپنے فیصلے اتفاق رائے سے کرتی ہے۔

فیٹف نے اپنی جوابی ای میل میں مزید کہا کہ ’مبصر تنظیموں کے نمائندے اور ایسوسی ایٹ اراکین بھی بحث میں حصہ لیتے ہیں جو کہ 205 ممالک اور تنظیموں کے عالمی نیٹ ورک کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیٹف نے جون میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جب کہ اس وقت پاکستان میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ گزشتہ پیش رفت کی بنا پر پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ 

فیٹف کا اگلا اجلاس رواں سال اکتوبر میں ہو گا جس میں ایک بار پھر پاکستان کی کارکردگی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ مگر قوی امکان یہی ہے کہ پاکستان اکتوبر کے بعد بھی گرے لسٹ میں ہی رہے گا کیوں کہ فیٹف کی جانب سے فراہم کردہ ایکشن پلان پر عمل کے بعد فیٹف کی ٹٰیم پاکستان کا دورہ بھی کرے گی اور اقدامات کا جائزہ لے گی۔ 

یہ بھی پڑھیے

Back to top button