سابق پاکستانی سفارت کار کی بیٹی اسلام آباد میں قتل

اسلام آباد تھانہ کوہسار کے علاقے میں سابق سفارت کار شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم  کو گلا کاٹ کر قتل دیا گیا۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق خاتون کو کسی تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا ہے۔

پولیس حکام نے رابطہ کرنے پر مزید بتایا کہ قتل کی اطلاع موصول ہوتے ہی سینئر افسران اور متعلقہ ایس ایچ او موقع واردات پر پہنچ گئے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔  

جب کہ قتل میں ممکنہ طور پر ملوث شخص کو موقع واردات سے گرفتار کرکے تھانے منتقل کردیا گیا ‏ہے۔ اس کے علاوہ وقوعے کا مقدمہ بھی درج کیا جا رہا ہے۔

پولیس حکام نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نور مقدم ظاہر جعفر نامی شخص کے گھر موجود تھیں، فائرنگ کے بعد ان کا سر تن سے جُدا کر دیا گیا۔

قتل کا وقوعہ ممکنہ طور پر ملوث ظاہر جعفر نامی شخص کا گھر تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق دونوں ایک دوسرے کے دوست تھے۔ ظاہر جعفر کسی کاروباری شخصیت کے بیٹے ہیں جب کہ لڑکی سابق پاکستانی سفیر شوکت علی مقدم کی صاحبزادی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیڈ باڈی پمز منتقل کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعہ منگل کو شام کے بعد پیش آیا ہے اور فیملی چونکہ صدمے میں ہے اس لیے ابھی مزید کچھ کہنا قبل ازوقت ہے، تفتیش کر رہے ہیں۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر جسٹس فار نور کا ٹرینڈ بھی بن گیا ہے۔

شوکت علی مقدم جنوبی کوریا 2012 قزاقستان میں 2014 میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button