پاکستان کے زیر انتظام کشمیر: ’اسی کی حکومت بنی جس کی پاکستان میں حکومت تھی‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کا دن جوں جوں قریب آ رہا ہے، پاکستان میں برسر اقتدار تحریک انصاف مزید الزامات اور تنازعات کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں یہ تاثر ہمیشہ سے قائم رہا ہے کہ وفاق میں برسر اقتدار جماعت سرکاری وسائل استعمال کر کے ان انتخابات کے نتائج کو اپنی جماعت کی مقامی شاخ کے حق میں موڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی انتخابی مہم میں وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزرا کی شرکت، وفاقی وزیر امور کشمیر کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی پے درپے خلاف ورزیوں کے باعث ان الزامات کو تقویت ملی ہے اور تنازعات کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور پر انتخابی مہم کے دوران پیسے تقسیم کرنے کے الزام میں الیکشن کمشن نے مقدمہ درج کرنے کے علاوہ ان کی جانب سے جلسوں میں ‘غیر شائستہ’ زبان استعمال کرنے کی وجہ سے ان کی تقریروںکو ‘امن و امان کے لیے خطرہ’ قرار دے کر انہیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے نکل جانے کا حکم دے رکھا ہے۔ تاہم علی امین گنڈا پور ان احکامات کے باوجود کئی جلسوں اور عوامی اجتماعات سے خطاب کر چکے ہیں اور ان میں سے ایک جلسے میں وزیر اعظم عمران خان بھی موجود تھے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر  وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وزرا پر الیکشن میں ‘پیسے کے استعمال’ اور ‘بے جا مداخلت’ کا الزام لگا کر اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے گذشتہ روز وزیر اعظم فاروق حیدر کے نام ایک خط بھی سامنے آیا ہے جس میں لکھا ہے کہ وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے انتخابی ضابطہ اخلاق اورالیکشن کمیشن کے احکامات سے ‘ صریحاً رو گردانی’ اور ‘سنگین خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔’

سیکرٹری الیکشن کمیشن محمد غضنفر خان کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ‘ایگزیکٹو اتھارٹیز۔۔۔۔ الیکشن کمیشن کے۔۔۔۔ فیصلہ/ تحریری احکامات پر عملدرآمد کروانے میں بادی النظر میں مصلحت کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔’

مکتوب میں وزیر اعظم کو لکھا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کے علاوہ اس میں ‘دانستہ تساہل، غفلت اور حکم عدولی’ کے مرتکب سرکاری افسران کے خلاف کاروائی کی جائے۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری کو ایک خط کے ذریعے حکم دیا تھا کہ علی امین گنڈاپور کے اقدامات اور تقاریر سے خطے میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے لہذا انہیں انتخابی جلسوں میں تقریر کرنے سے روکنے کے علاوہ انہیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے چلے جانے کا پابند بنایا جائے تاہم اس کے اگلے روز ہی گنڈا پور نے نہ صرف جلسے سے خطاب کیا بلکہ اپنی تقریر میں الیکشن کمیشن کے ان احکامات کا طنزیہ انداز میں ذکر بھی کیا۔

ایسا پہلی بار نہیں کہ وفاقی حکومت پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کا الزام لگ رہا ہے۔ 2016 کے انتخابات میں اس وقت کے وزیر امور کشمیر برجیس طاہر بھی لگ بھگ وہی زبان استعمال کرتے رہے ہیں جو آج علی امین گنڈا پور کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وفاقی وزراء پرویز رشید، احسن اقبال، صدیق الفاروق سردار یوسف سمیت وزیر اعظم کے معاون خصوصی آصف کرمانی اور کئی دوسرے وزراء بھی مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم میں پیش پیش رہے۔

2011 کے انتخابات میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کےزیر انتظام کشمیر میں پیپلز پارٹی کے انتخابی جلسوں میں شرکت کی اور اس وقت کے وزیر امور کشمیر قمر الزمان کائرہ، منظور وٹو اور دوسرے وزرا بھی انتخابی مہم میں شامل رہے۔ پیپلز پارٹی پر اپنے امیدواروں کی جیت کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز استعمال کرنے کا الزام بھی رہا۔

تجزیہ کار پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عام انتخابات میں لگ بھگ اڑھائی سال کے وقفہ کو مداخلت کا تاثر پیدا کرنے کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پارلیمانی تاریخ اور داخلی سیاست پر نظر رکھنے والے صحافی و تجزیہ کار عبدالحکم کشمیری کہتے ہیں کہ 1970 سے لے کر آج تک جب بھی یہاں انتخابات ہوئے، یہاں اس جماعت نے حکومت بنائی جس کی پاکستان میں حکومت تھی یا جسے پاکستان میں برسر اقتدار جماعت کی تائید حاصل رہی۔

‘مارشل لا کے سالوں بھی اسٹیبلشمنٹ کی چہیتی جماعت مسلم کانفرنس ہی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات میں کامیاب ہوتی رہی۔’

وہ کہتے ہیں: ‘یہاں کی حکومت کا مالیاتی انحصار وفاقی حکومت پر ہوتا ہے۔ مظفرآباد اور اسلام آباد میں علیحدہ علیحدہ جماعتوں کی حکومتیں ہوں تو اسلام آباد ترقیاتی فنڈز کی فراہمی روک دیتا ہے۔ 2016 میں جب پاکستان میں مسلم لیگ اقتدار میں تھی تو  فنڈز روکنے پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم چودھری عبدالمجید کو پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا دینا پڑ گیا تھا۔’

‘پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت پر بھی گیارہ ارب کے ترقیاتی فنڈز روکنے کا الزام ہے۔’

عبدالحکیم کشمیری کہتے ہیں کہ پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام علاقوں گلگت بلتستان اور کشمیر کے انتخابات میں دو سے ڈھائی سال کا وقفہ ان انتخابات مین وفاقی حکومت کی مداخلت کے تاثر کو مضبوط کرتا ہے۔

 عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب گلگت بلتستان یا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات ہوتے ہیں تو وفاق اور صوبوں میں کچھ خاص سیاسی سرگرمیاں نہیں چل رہی ہوتی تو بڑی جماعتوں کی مرکزی قیادت کی توجہ ان انتخابات پر چلی جاتی ہے۔ بچھلے تین چار انتخابات میں ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ جب بھی پاکستان کے زیر انتظام علاقوں میں انتخابات ہوتے ہیں قومی سطح کی جماعتوں کی مرکزی قیادت ان علاقوں میں انتخابی سرگرمیوں میں پیش پیش رہی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان انتخابات میں ٹکٹ جاری کرنے کے فیصلے بھی عموماً قومی سطح کی قیادت پر مشتمل پارلیمانی بورڈ ہی کرتے ہیں اور مقامی تنظیم کا عمل دخل درخواستیں وصول کرنے تک ہی محدود رہتا ہے۔

عبدالحکم کشمیری کے بقول: ‘ایسا نہیں کہ صرف برسر اقتدار جماعت کی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابات میں مداخلت کرتی ہے۔ دوسری جماعتوں کی مرکز قیادت اور صوبائی حکومتیں بھی اپنے اپنے طور پر ان انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ برسر اقتدار جماعت کے پاس سرکاری وسائل موجود ہوتے ہیں اور وہ خفیہ یا اعلانیہ طور پر ان وسائل کا استعمال کرتے ہیں۔’

‘ دوسرا یہ کہ ووٹر بھی ووٹ ڈالتے وقت سوچتے ہیں کہ اگر پاکستان میں برسر اقتدار جماعت کی حکومت یہاں ہو گی تو ترقیاتی فنڈز کا مسئلہ نہیں پیدا ہو گا۔ لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل جیسا کے سرکاری نوکریاں وغیرہ، ان میں رکاوٹ نہیں پڑے گی۔’

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سید منظور حسین گیلانی کہتے ہیں کہ اس مداخلت کو روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ پاکستان کے صوبوں کی طرح گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات ایک ہی دن ہونے چاہیں تاکہ کسی بھی جماعت کو نتائج بدلنے کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال کا موقع ملے اور نہ ہی مداخلت کا تاثر پیدا ہو۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button