نسل پرستانہ ٹویٹس: انگلش بولر اولی روبنسن معطل

گذشتہ ہفتے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے 27 سالہ اولی رابنسن کرکٹ کی تاریخ کے انوکھے کھلاڑی بن گئے ہیں جو پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں اچھی کارکردگی دکھانے کے باوجود پابندیوں کی زد میں آگئے۔

ماضی میں ان کی کچھ نسل پرستانہ ٹویٹس منظر عام پر آنے کے بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے انہیں فوری طور پر معطل کر دیا۔ 

اولی رابنسن پر الزام ہے کہ انہوں نے 2012 اور 2013 میں مسلمانوں اور خواتین کے خلاف ٹویٹس کیں۔ ان کے خواتین کے بارے میں ریمارکس تو شدید تھے ہی لیکن الزام ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ایک ایسے ہیش ٹیگ سے ٹویٹ کررہے تھے جو نسل پرستی پر مبنی تھا اور جس میں مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑا جا رہا تھا۔ 

رابنسن کو نیوزی لینڈ کے خلاف جب پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے منتخب کیا گیا تو کرکٹرز کی آف دی گراؤنڈ سرگرمیوں پر نظر رکھنے والوں نے ان ٹویٹس کو فوراً پھیلا دیا اور تیزی سے یہ منظر عام پر آ گئیں۔ 

ان ٹویٹس کا انکشاف اس وقت ہوا جب صرف چند گھنٹے قبل ہی روبنسن اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر نسل پرستی، نفرت، خواتین سے بدسلوکی، بد تہذیبی اور بدسلوکی کے خلاف یک جہتی کا اظہار کررہے تھے۔

دو جون کو پہلے ٹیسٹ سے قبل دونوں ٹیموں نے بلیک ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں جن پر سماجی جرائم کے خلاف نعرے درج تھے۔ 

روبنسن کے ٹویٹس منظر عام پر آنے کے بعد اس اظہار یکجہتی پر برطانوی میڈیا نے سخت تنقید کی اور اسے ایک مذاق قرار دیا تھا کہ نسل پرستی کا حامی ایک کھلاڑی ٹیم میں ہے اور ٹیم نسل پرستی کے خلاف مظاہرہ کررہی ہے۔

اولی رابنسن نے ٹیسٹ کے پہلے دن کے اختتام پر ماضی کی اپنی ٹویٹس پر سخت ندامت کا اظہار کرتے ہوئے معافی مانگی تھی اور ان ریمارکس کو کم عمری کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت وہ اتنے سمجھ دار نہیں تھے اس لیے ایسا لکھ دیا۔ تاہم میڈیا اس سے مطمئن نہ تھا اور انگلش کرکٹ بورڈ کی خاموشی کو رابنسن کی حمایت سے تعبیر کیا۔ 

اولی رابنسن کے ان ریمارکس پر اخبار دا گارڈین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ انگلش کرکٹ کو ابھی بھی اخلاقی اقدار سیکھنے کی ضرورت ہے۔

اخبار نے نشاندہی کی کہ اس قسم کے ریمارکس تواتر کے ساتھ سننے کو ملتے ہیں اور ان کا ہدت ایشیائی کھلاڑی ہوتے ہیں۔ 

اخبار نے ایک ایسے ہی واقعے کا ذکر کیا ہے جب سمرسٹ کے بولر ایورٹن نے سسیکس کے اشعر زیدی کے خلاف نسل پرستانہ جملے کہے تھے لیکن سزا سے بچ گئے۔ 

پہلے ٹیسٹ کے اختتام پر انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اولی رابنسن کے ان ریمارکس کی مکمل تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے اور جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتی ان پر انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے پر پابندی ہوگی۔ 

انہیں انگلینڈ کی ٹیم سے خارج کر دیا گیا ہے اور وہ اگلے ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بورڈ اس حوالے سے کیا فیصلہ کرے گا یہ ابھی واضح نہیں ہے لیکن رابنسن کی شاندار بولنگ بھی ان کے کیریئر کو بچا نہیں سکی اور اگر ان پر طویل پابندی لگی تو شاید وہ اب نہ کھیل سکیں۔ 

دور حاضر کے متعدد کھلاڑی ایسے ہیں جو نسل پرستی پر مبنی ریمارکس پر پابندی کی زد میں آ چکے ہیں۔ 

پاکستان کے سابق کپتان سرفراز احمد پر 2019 میں ساؤتھ افریقہ کے فیلوکوایو پر دوران میچ فقرے کسنے پر چار میچوں کی پابندی لگ چکی ہے۔ 

اسی طرح بھارت کے ہردیک پانڈے پر خواتین سے متعلق ریمارکس پر آسٹریلیا کے دورے پر پابندی لگ گئی تھی۔ 

بھارت ہی کے ہربھجن سنگھ پر تین ٹیسٹ میچ کی پابندی لگی تھی جب انہوں نے اینڈریو سائمنڈز کو ’بندر‘ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔

اسی طرح آسٹریلیا کے آنجہانی ڈین جونز کے ساتھ ٹین سپورٹس نے معاہدہ ختم کردیا تھا جب انہوں نے ہاشم آملہ کو مذاق میں دہشت گرد کا لقب دیا تھا۔ 

Related Articles

Back to top button