رکاوٹوں کے باوجود پی ایس ایل 6 آج سے دوبارہ شروع

ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مقابلے کو مکمل کرنے کے لیے تمام لاجسٹک اور آپریشنل چیلنجز پر قابو پالیا گیا ہے اور بدھ سے شیخ زید کرکٹ سٹیڈیم ابوظہبی میں اس ٹورنامنٹ کے باقی ماندہ میچ شروع ہو رہے ہیں۔

لیگ کا مجموعی طور پر 15 واں میچ لاہور قلندرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے مابین کھیلا جائے گا۔ شیخ زید سٹیڈیم ابوظہبی میں کھیلا جانے والا یہ میچ مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے اور پاکستانی وقت کے مطابق رات نو بجے شروع ہوگا۔

2016 میں پی ایس ایل کا آغاز بھی ابوظہبی سے ہوا تھا۔ 2017 کے بعد لیگ کے آخری تین میچز پاکستان میں کھیلے گئے، ایڈیشن 2019 کے دوران پلوامہ حملے اور سفری پابندیوں کے باوجود چند میچز کو کراچی میں منعقد کروایا گیا۔

کئی غیرملکی کھلاڑیوں کے پاکستان آمد سے انکار کے باوجود لیگ کا پانچواں ایڈیشن مکمل طور پر پاکستان میں کھیلا گیا، گوکہ کووڈ 19 کی عالمی وبا کے باعث پانچواں ایڈیشن کچھ عرصے کے لیے تعطل کا شکار ہوا تاہم اسے بعد میں مکمل کر لیا گیا۔

اب ایڈیشن 2021 کے بقیہ 20 میچز میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان، بھارت، سری لنکا اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک کا یو اے ای کی ریڈ لسٹ میں موجود ہونا تھا مگر اس لیگ کے انعقاد کو ممکن بنانے کے لیے کئی امور پر خصوصی اجازت نامے لیے گئے جن میں سے کچھ کو بعد میں واپس بھی لے لیا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بہرحال، پاکستان اور ابوظہبی کی حکومتوں، ابوظہبی سپورٹس کونسل اور ایمریٹس کرکٹ بورڈ کے تعاون کی بدولت پی سی بی نے ان تمام چیلنجز پر قابو پایا اور لیگ کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے۔

پی سی بی پرامید ہے کہ لیگ کا ساتواں ایڈیشن مکمل طور پر پاکستان میں ہی کھیلا جائے گا۔

لیگ کے ان 20 بقیہ میچز میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے کئی معروف کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں، جن میں مارٹن گپٹل، عثمان خواجہ، فاف ڈوپلیسی، ڈیوڈ ملر، شیمرون ہیٹمائر اور راشد خان شامل ہیں۔

اس دوران پاکستان کے نامور ستارے بابر اعظم، شاداب خان، محمد حفیظ، شاہین شاہ آفریدی، سرفراز احمد، محمد رضوان، شرجیل خان، حسن علی اور فہیم اشرف بھی اس لیگ میں جلوہ گر ہو رہے ہیں۔

یہ تمام کھلاڑی دورہ انگلینڈ کے لیے اعلان کردہ قومی سکواڈ کا حصہ بھی ہیں، جو انگلینڈ کے خلاف تین ون ڈے اور تین ٹی ٹونٹی میچز پر مشتمل سیریز کھیلنے کے بعد پانچ ٹی ٹوئنٹی اور دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلنے ویسٹ انڈیز روانہ ہو جائیں گے۔

Related Articles

Back to top button