پاکستان کے کون سے اتھلیٹس ٹوکیو اولمپکس میں تمغہ جیت سکتے ہیں؟

پاکستان اپنے 10 اتھلیٹس پر مبنی سکواڈ کے ساتھ ٹوکیو اولمپکس 2021 میں شرکت کر رہا ہے۔

ان 10 اتھلیٹس میں وہ کون سے نام ہیں جو پاکستان کے لیے کوئی تمغہ جیت کر لا سکتے ہیں؟

ان میں ایک تو پاکستانی جیولین تھرو سٹار ارشد ندیم ہیں جو ساؤتھ ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیت چکے ہیں۔

ماحور شہزاد ایک پاکستانی بیڈمنٹن پلیئر ہیں اور ان کا نام دنیا کی 100 بہترین کھلاڑیوں میں شامل ہے۔

اسی طرح طلحہ طالب ویٹ لفٹنگ میں 67 کلو گرام کی کیٹیگری میں پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں۔

میڈل کی ایک اور امیدوار نجمہ پروین ہیں جو 100 میٹر ریس میں سب سے تیز بھاگنے کے لیے پرامید ہیں۔

ٹوکیو اولمپکس 21 جولائی سے آٹھ اگست 2021 تک جاری رہیں گے۔ یہ میگا ایونٹ گذشتہ سال 24 جولائی سے شروع ہونا تھا لیکن کرونا کی وبا کے باعث اسے ملتوی کر دیا گیا۔

یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے جب اولمپکس منسوخ کرنے کی بجائے ملتوی ہوئے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹوکیو دوسری مرتبہ اس ایونٹ کی میزبانی کا شرف حاصل کر رہا ہے۔ اس سے پہلے 1964 میں یہاں پوری دنیا سے کھلاڑی اکھٹے ہوئے تھے۔

اگر پاکستان کی بات کریں تو اس کے ایتھلیٹس نے اولمپکس کی تاریخ میں اب تک 10 تمغے جیتے ہیں، جن میں سے آٹھ مردوں کی فیلڈ ہاکی کے مقابلوں میں تھے۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا اولمپکس روم میں 1960 کا تھا، جب اس کی ہاکی ٹیم نے سونے اور کشتی میں کانسی کا ایک تمغہ اپنے نام کیا تھا۔

پاکستان نے اب تک دو انفرادی تمغے جیتے ہیں، جو دونوں کانسی کے تھے۔ ایک روم اولمپکس 1960 میں اور دوسرا سیول 1988 باکسنگ میں۔

پاکستان نے 1992 میں بارسلونا اولمپکس کے بعد سے کوئی تمغہ نہیں جیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button