پاکستان اور اولمپکس: 29 سال سے جھولی خالی

حالیہ اولمپکس مقابلوں میں پاکستان کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی ہے۔ ریو میں ہونے والے پچھلے اولمپکس میں سات افراد پر مشتمل پاکستانی دستہ خالی ہاتھ وطن لوٹ کر آیا، اور یوں پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا جس نے اولمپکس میں کوئی تمغہ نہیں لیا۔

پاکستان نے آخری بار 1992 میں بارسلونا اولمپکس میں کوئی تمغہ جیتا تھا، اور وہ بھی ہاکی میں کانسی کا۔ اس کے بعد چھ اولمپکس ہوئے، 29 سال گزر گئے، مگر جھولی خالی پڑی ہے۔ کیا اس بار پاکستانی کھلاڑی   ٹوکیو 2020 میں کوئی کارنامہ کر پائیں گے؟ اس کا ذکر کرنے سے پہلے ہم جلدی سے ذرا تاریخ پر ایک نظر دوڑا لیتے ہیں۔

پاکستان بننے کے تقریباً ایک سال بعد 1948 میں لندن میں اولمپکس ہوئے۔ نیا ملک تھا، حالات ٹھیک نہیں تھے، اس لیے کوئی تمغہ نہیں ملا۔ اس کے بعد اگلی بار ہیلسنکی میں بھی یہی حال رہا، البتہ 1956 میں میلبرن پاکستان کو ہاکی کے فائنل میں حریف بھارت سے ہار کا داغ ضرور اٹھانا پڑا، لیکن کم از کم چاندی کا تمغہ ضرور مل ہی گیا جو پاکستان کا پہلا اولمپکس تمغہ تھا۔

اگلے بار یہ داغ بھی دھل گیا اور پاکستان نے 1960 کے روم اولمپکس میں بھارت ہی کو ہاکی کے فائنل میں ہرا کر پچھلی شکست کا بدلہ چکایا اور پہلی بار سونے کا تمغہ بھی حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہا۔ بھارت نے بھی حساب برابر کرنے میں دیر نہیں لگائی اور اگلے اولمپکس میں پاکستان کو فائنل میں ہرادیا۔ اس سے اگلی بار پاکستان نے پھر طلائی تمغہ جیتا۔  

اس کے بعد سے 1992 تک پاکستان ہاکی میں کوئی نہ کوئی تمغہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا رہا، لیکن  وہ دن اور آج کا دن، یہ  چشمہ اب تک سوکھا پڑا ہے۔

ہاکی کے علاوہ پاکستان نے کسی اور کھیل میں صرف دو بار تمغہ جیتا ہے، 1960 میں روم میں کشتی میں پہلوان محمد بشیر کا جیتا ہوا کانسی کا تمغہ اور 1986 کے سیول اولمپکس میں باکسر حسین شاہ کا کانسی ہی کا تمغہ۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس طرح اگر میزان جوڑا جائے تو  شروع سے اب تک پاکستان کے 217 کھلاڑیوں نے 17 اولمپکس میں حصہ لیا ہے اور اس دوران کل ملا کر دس تمغے جیتے ہیں جن میں تین سونے کے، تین چاندی کے اور چار کانسی کے تمغے شامل ہیں۔

ان میں سے آٹھ تمغے پاکستان کو ہاکی نے دیے ہیں، لیکن بدقسمتی سے پچھلے اور حالیہ اولمپکس میں ہاکی کی ٹیم کوالیفائی ہی نہیں کر سکی، اس لیے وہ دروازہ تو بند ہو گیا۔

اب آ جائیے حالیہ اولمپکس، یعنی  ٹوکیو 2020 ۔ اس میں  پاکستان کا 22 رکنی وفد حصہ لے رہا ہے، جس میں کھلاڑی کم اور آفیشلز زیادہ ہیں، یعنی دس کھلاڑی اور 12 عہدے دار۔

اس بار پاکستان ایتھلیٹکس، بیڈمنٹن، جوڈو، شوٹنگ، سوئمنگ اور ویٹ لفٹنگ میں حصہ لے رہا ہے۔ ان سب کھیلوں میں پاکستان کو کوٹا سسٹم کے تحت داخلہ دیا گیا ہے، صرف نشانہ بازی  ایسا کھیل ہے جس میں پاکستان نے باقاعدہ کوالیفائنگ راؤنڈ جیت کر شمولیت حاصل کی ہے۔

ٹوکیو 2020 میں پاکستان کی جانب سے تین نشانہ باز غلام جوزف، محمد خلیل اختر اور غلام مصطفیٰ بشیر حصہ لیں گے۔ پاکستان کی جانب سے اگر کوئی تمغہ حاصل کرنے کی ننھی سی امید ہے تو انہی سے ہے۔

جو وائلڈ کارڈ سے گئے ہیں اگر وہ کچھ جیت جائیں تو معجزہ ہی کہلائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button