ٹوکیو اولمپکس: ایتھلیٹس کے لیے گتے سے بستر کیوں بنائے گئے؟

کھیلوں کے سب سے بڑے مقابلے شروع ہونے میں اب چند ہی دن باقی ہیں اور اب تک تین کھلاڑیوں کے کرونا ٹیسٹ مثبت آچکے ہیں۔

ٹوکیو اولمپکس میں اس بار توجہ کا مرکز کرونا بنا ہوا ہے تاہم اب ایک دلچسپ پہلو بھی سامنے آگیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اولمپک ولیج میں کھلاڑیوں کے لیے تیار کیے گئے بستر مضبوط نہیں ہیں اور ایک سے زیادہ فرد کا وزن نہیں اٹھا سکتے جب کہ ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہے تاکہ سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جاسکے۔

اخبار کی یہ رپورٹ امریکی ایتھلیٹ پال چیلیمو کی اس حوالے سے کی جانے والی متعدد ٹوئٹس پر مبنی تھی جن میں انہوں نے بستر گتے سے بنے ہونے کی نشاندہی کی تھی۔

ایک ٹوئٹ میں پال نے لکھا: ’بستر صرف ایک فرد کا وزن اٹھا سکیں گے تاکہ کھیل کے علاوہ کسی اور سرگرمی سے بچا جا سکے۔‘

اس کے علاوہ بھی پال نے مختلف تصاویر شیئر کیں اور بستر کی مضبوطی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔ تاہم ان کے تحفظات پر آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے جمناسٹ رہیس میک کلیناگھن نے بستر کے اوپر اچھلنے کی ویڈیو پوسٹ کی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ بیڈز مضبوط ہیں۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا: ’ان بستروں کا مقصد تدارک جنسی اختلاط ہے، ہاں یہ کارڈ بورڈ سے بنے ہیں لیکن یہ اچانک ہونے ولی غیر معمولی حرکت سے ٹوٹ جائیں گے یہ بالکل جھوٹ ہے، جھوٹی خبر ہے۔‘

ٹوکیو اولمپکس کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے میک کلیناگھن کی ویڈیو کو ری ٹوئٹ کیا گیا اور ساتھ ہی اس افواہ کو بے نقاب کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’بستر پائیدار اور مضبوط ہیں۔‘

خیال رہے کہ اولمپکس میں کھلاڑیوں کے لیے تیار کیے جانے والے بیڈز پائیدار ترقی اہداف کو مدنظر رکھ کر ماحول دوست مواد سے تیار کیے جاتے ہیں اور انہیں پہلی بار تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔

جب آسٹریلوی باسکٹ بال پلیئر اینڈریو بوگٹ نے ان کی پائیداری پر سوال اٹھایا تو ان بستروں کو تیار کرنے والی کمپنی ’ایئر ویو‘ نے جنوری میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ بستر 200 کلو تک کا وزن برداشت کر سکتے ہیں اور انہیں وزن ڈال کر چیک کیا گیا ہے، بستر پر وزن گرا کر جانچا گیا ہے۔

کمپنی کے ترجمان نے کہا ’اگر اس پر دو بندے ہوں تو بستر کو ان کا وزن سنبھالنے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہیے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمعے سے شروع ہونے والے ٹوکیو اولمپکس میں ہزاروں ایتھلیٹس اولمپک ولیج میں قیام کریں گے، کھلاڑیوں کو غیر ضروری جسمانی تعلق قائم کرنے سے خبردار کرنے کے پیغامات دیے جانے کے باوجود منتظمین کی جانب سے ایک لاکھ 60 ہزار کنڈومز فراہم کیے جائیں گے۔

تاہم اس حوالے سے منتظمین نے وضاحت کی ہے ’کنڈومز تقسیم کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ انہیں اولمپک ولیج میں ہی استعمال کیا جائے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ ایتھلیٹس انہیں واپس اپنے ملک لے جائیں اور ایچ آئی وی/ ایڈز کی آگاہی مہم میں تعاون کریں۔‘

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق اولمپک ولیج میں موجود دو جنوبی افریقی فٹبالر اور ایک ویڈیو اینالسٹ میں اتوار کو اور جمہوریہ چیک کی بیچ والی بال پلیئر میں پیر کو کرونا وائرس کی تشخیص ہوگئی ہے جس کے بعد اولمپکس کے انعقاد پر سوالات پیدا ہوگئے ہیں تاہم منتظمین پر اعتماد ہیں کہ اولمپک ولیج کھلاڑیوں کے قیام کے لیے محفوظ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button