دورہ انگلینڈ، ویسٹ انڈیز: محمد عباس اور نسیم شاہ کی ٹیم میں واپسی

قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی نے دورہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز میں کھیلے جانے والے تین ایک روزہ میچز، دو ٹیسٹس اور آٹھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کے لیے قومی سکواڈز کا اعلان کر دیا ہے۔

 پی سی بی کے بیان کے مطابق اعلان کردہ ٹیم میں چار کھلاڑیوں، حارث سہیل اورعماد وسیم کی بالترتیب ون ڈے انٹرنیشنل اور ٹی ٹوئنٹی سکواڈز جبکہ محمدعباس اور نسیم شاہ کی ٹیسٹ سکواڈ میں واپسی ہوئی ہے۔

 مڈل آرڈر بلے باز اعظم خان کو پہلی مرتبہ قومی ٹی ٹوئنٹی سکواڈ جبکہ سلمان علی آغا کو ون ڈے انٹرنیشنل سکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

لیگ سپنر یاسر شاہ تاحال گھٹنے کی انجری سے صحت یاب نہیں ہوسکے، لہٰذا ان کی قومی ٹیسٹ سکواڈ میں شمولیت فٹنس سے مشروط رکھی گئی ہے۔

 ان کو اسی انجری کی وجہ سے زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ سے باہر کیا گیا تھا۔

دوسری طرف نعمان علی، ساجد خان اور زاہد محمود کو بھی ویسٹ انڈیز کے خلاف قومی ٹیسٹ سکواڈ کا حصہ رکھا گیا ہے۔

لیفٹ ہینڈ بیٹسمین فخر زمان جنہیں جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں عمدہ کارکردگی کی بدولت قومی ٹی ٹوئنٹی سکواڈ میں بطور اضافی کھلاڑی شامل کیا گیا تھا، انہیں بھی قومی ٹی ٹوئنٹی سکواڈ میں برقرار رکھا گیا ہے۔

دورے کے لیے اعلان کردہ قومی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سکواڈز بالترتیب18 اور 19 کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔ ان دونوں سکواڈز میں 13 کھلاڑی ایسے ہیں جو دونوں طرز کی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

قومی ٹیسٹ سکواڈ میں مجموعی طور پر 21 کھلاڑی شامل ہیں۔ ان 21 میں سے آٹھ کرکٹرز ایسے ہیں جو تینوں فارمیٹ میں قومی ٹیم کی نمائندگی کررہے ہیں۔

سکواڈز:

دوروں کے لیے ون ڈے سکواڈ میں بابر اعظم (کپتان)، شاداب خان (نائب کپتان)، عبداللہ شفیق، فہیم اشرف، فخر زمان، حیدر علی، حارث رؤف، حارث سہیل، حسن علی، امام الحق، محمد حسنین، محمد نواز، محمد رضوان، سلمان علی آغا، سرفراز احمد(وکٹ کیپر)، سعود شکیل، شاہین شاہ آفریدی اور عثمان قادر شامل ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی سکواڈ میں بابر اعظم (کپتان)، شاداب خان (نائب کپتان) ارشد اقبال، اعظم خان، فہیم اشرف، فخر زمان، حیدر علی، حارث رؤف، حسن علی، عماد وسیم، محمد حفیظ، محمد حسنین، محمد نواز، محمد رضوان(وکٹ کیپر)، محمد وسیم جونیئر، سرفراز احمد(وکٹ کیپر)، شاہین شاہ آفریدی اور شرجیل خان سمیت عثمان قادر شامل ہیں۔

ٹیسٹ سکواڈ میں بابر اعظم (کپتان) محمد رضوان (نائب کپتان) (وکٹ کیپر) عبداللہ شفیق عابد علی اظہر علی فہیم اشرف فواد عالم حارث رؤف حسن علی عمران بٹمحمد عباس محمد نوازنسیم شاہ نعمان علی ساجد خان سرفراز احمد(وکٹ کیپر) سعود شکیل شاہین شاہ آفریدی شاہنواز دھانی یاسر شاہ (فٹنس سے مشروط) اور زاہد محمود شامل ہوں گے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر محمد وسیم کا کہنا ہے کہ ہم نے سلیکشن میں تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے انہی کھلاڑیوں کو قومی سکواڈز میں شامل کیا ہے جو گذشتہ کچھ عرصے سے ہمارے سیٹ اپ کا حصہ ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ سپر لیگ کے تین میچز کےعلاوہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف مجموعی طور پر آٹھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کی وجہ سے ہمارے لیے ان دونوں ممالک کے دورے بہت اہم ہیں۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمد وسیم نے کہا کہ کپتان بابراعظم اور ہیڈ کوچ مصباح الحق کی مشاورت سے انہوں نے وننگ کمبی نیشن کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے چار سینئیرکھلاڑیوں کو دوبارہ قومی سکواڈز میں شامل کرلیا ہے۔ ان کے علاوہ مڈل آرڈر بیٹسمین اعظم خان کو پہلی مرتبہ قومی ٹی ٹوئنٹی سکواڈ کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔

چیف سلیکٹر نے مزید کہا کہ محمد عباس کو اپنی کھوئی ہوئی فارم واپس حاصل کرنے، نسیم شاہ اور حارث سہیل کوفٹنس کے معیارمیں بہتری لانے پر منتخب کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان چاروں کھلاڑیوں کی واپسی کی وجہ سے ہمیں چند کھلاڑیوں کو سکواڈ سے ڈراپ کرنا پڑا ہے جوکہ آسان فیصلہ نہیں تھا لیکن ہم نے کنڈیشنز اور مخالف ٹیموں کے کمبی نیشن کو پیش نظر رکھتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے بہترین مفاد میں مشترکہ فیصلے کیے ہیں۔

محمد وسیم نے کہا کہ جو کھلاڑی قومی سکواڈ سے باہر ہوگئے ہیں وہ ہمارے پلانز کا حصہ رہیں گے۔ وہ اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لیے نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں ثقلین مشتاق اور محمد یوسف جیسے نامورکرکٹرز کی زیرنگرانی تربیت حاصل کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ لیگ سپنر یاسر شاہ کی قومی ٹیسٹ سکواڈ میں شمولیت ان کی فٹنس سے مشروط ہے، انہیں بائیں گھٹنے کی انجری کے باعث زمبابوے کے خلاف سیریز سے ڈراپ کیا گیا تھا تاکہ وہ اپنا ری ہیب مکمل کر کے دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے مکمل فٹنس حاصل کرسکیں تاہم ایسا ممکن نہ ہوسکا مگرامید ہے کہ وہ قومی ٹیسٹ اسکواڈ کی ویسٹ انڈیز روانگی سے قبل مکمل طور پر فٹنس بحال کرلیں گے۔

محمد وسیم نے کہا کہ بلاشبہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز سے لے کر اب تک ہماری ٹیم متعدد کامیابیاں حاصل کرچکی ہے تاہم اب بھی ہمیں چند شعبوں میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ پرامید ہیں کہ دورہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز اس ضمن میں معاون ثابت ہوں گے۔

شیڈول:

25 جون: مانچسٹر روانگی

6 جولائی: کارڈف روانگی

8 جولائی: پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میچ صوفیہ گارڈنز کارڈف

10 جولائی: دوسرا ون ڈے انٹرنیشنل میچ، لارڈز لندن

13 جولائی: تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل میچ، ایجبیسٹن برمنگھم

16 جولائی: پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ ٹرینٹ برج نوٹنگھم

18 جولائی: دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ ہیڈنگلے لیڈز

20 جولائی: تیسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ اولڈ ٹریفورڈ مانچسٹر

21 جولائی: بارباڈوس روانگی

27 جولائی: پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کینسنگٹن اوول بارباڈوس

28 جولائی: دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کینسنگٹن اوول بارباڈوس

31 جولائی: تیسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ پروویڈینس اسٹیڈیم گیانا

یکم اگست: چوتھا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ پروویڈینس اسٹیڈیم گیانا

3 اگست: پانچواں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ پروویڈینس اسٹیڈیم گیانا

6 تا 7 اگست: دو روزہ پریکٹس میچ گیانا

12 تا 16 اگست: پہلا ٹیسٹ میچ، سبینا پارک جمیکا

20تا 24 اگست: دوسرا ٹیسٹ میچ، سبینا پارک جمیکا

25 اگست: روانگی

Related Articles

Back to top button